اسوہء انسانِ کامل — Page 572
572 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت اسوہ انسان کامل سادہ تھی۔بہت قناعت سے گزارا ہوتا تھا۔دو دو ماہ گزر جاتے اور چولہے میں آگ نہ جلتی تھی۔کسی نے پوچھا کہ أم المؤمنین ! آپ لوگ کھاتے کیا تھے؟ فرمانے لگیں کہ کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا تھا یا پھر دودھ پر کہ بعض صحابہ حضور کو کوئی جانور کچھ عرصہ کے لئے عاریتاً دے دیتے تھے تا کہ آپ اس کا دودھ استعمال کر سکیں۔( بخاری )13 کھانے میں حضور کی سادگی کا اندازہ آپ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے کہ انسان کے لئے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں۔آدمی کے لئے اتنے لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی کر دیں۔اگر آدمی کی خواہش اس سے زیادہ کی ہو تو پھر پیٹ میں ایک حصہ کھانے کے لئے رکھے ایک پینے کے لئے اور ایک سانس کے لئے۔(ابن ماجہ ) 14 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور اپنے گھر میں کبھی کھانا خود سے نہیں مانگتے تھے نہ ہی اس کی خواہش کرتے تھے۔اگر گھر والے کھانا دے دیتے تو آپ تناول فرما لیتے اور جو کھانے پینے کی چیز پیش کی جاتی قبول فرما لیتے۔(ابن ماجہ ) 15 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم کبھی شام کا کھانا بچا کر صبح کے لئے اور صبح کا رات کے لئے نہیں رکھتے تھے۔اور کبھی آپ نے دو چیزیں ایک ساتھ اپنے ذاتی استعمال کے لئے نہیں رکھیں۔یعنی دو قمیص ، دو چادر میں یا دوتہ بند اور دوجو تے کبھی نہیں رکھے۔اور کبھی آپ گھر میں فارغ نہیں دیکھے گئے یا تو کسی مسکین کے لئے جو نا سی رہے ہوتے یا بیواؤں کے لئے کپڑ اسی رہے ہوتے۔( ابن الجوزی )16 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی وفات تک ایک دن میں دومرتبہ سیر ہوکر روٹی اور تیل زیتون استعمال نہیں کیا۔(مسلم)17 حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت فاطمہ نے رسول کریم کو جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔آپ نے فرمایا تین دن کے بعد تیرے باپ نے یہ پہلا لقمہ کھایا ہے۔(احمد) 18 حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم کی خدمت میں بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے پیٹوں سے کپڑا اٹھا کر دکھایا جن پر ایک ایک پتھر بندھا تھا۔رسول کریم ﷺ نے پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو اس پر دو پتھر تھے۔(ترمذی )19 حضرت ابوھر یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم کے پاس ایک روز کھا نالا یا گیا۔آپ نے کھانا تناول فرمایا اور پھر دعا کی کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔میرے پیٹ میں کوئی ٹھوس کھانا اتنے عرصہ سے نہیں پڑا۔( ابن ماجہ ) 20 آنحضرت جو کی روٹی استعمال کرتے تھے۔ایک دفعہ گھر کا کام کاج کرنے والی ام ایمن نے آٹا چھان کر روٹی بنائی۔آپ نے پوچھا یہ کیا ؟ انہوں نے وضاحت کی کہ ہمارے ملک حبشہ میں چھٹے ہوئے آٹے کی ایسی روٹی بنائی جاتی ہے جو میں نے خاص حضور کے لئے تیار کی ہے۔فرمایا چھان آٹے میں ملا کر گوندھو اور اس کی روٹی بنایا کرو۔(ابن ماجہ ) 21 ام سعد کہتی ہیں کہ رسول اللہ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے۔میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی حضور نے پوچھا کہ