اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 571 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 571

اسوہ انسان کامل 571 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت ہے۔آج رات تو اس کے آرام نے مجھے تہجد کی نماز سے روک دیا۔(شمائل) 7 میانه روی نبی کریم سادہ لباس زیب تن فرماتے تھے اور حسب ضرورت اس میں پیوند وغیرہ لگا کر پہننے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے ایک نیا قمیص پہن کر نماز پڑھی۔جس میں نقش و نگار تھے۔حضور نے دوران نماز اس کے نقش و نگار پر ایک نظر فرمائی۔جب سلام پھیرا تو فرمایا میری یہ قمیص ابو جہم ( تاجر ) کو واپس کر دو اور میرے لئے انجان بستی کی بنی ہوئی سادہ ہی چادر منگوا دو۔اس چادر کے نقش و نگار کہیں نماز کے دوران خلل انداز نہ ہوں۔( بخاری )8 آپ نے فراخی اور بادشاہی کا زمانہ بھی دیکھا مگر اپنی سادگی میں کوئی غیر نہ آیا۔کوئی بارگاہ نہیں بنوائی۔کوئی شاہانہ لباس تیار نہ کر وایا اور اسی حال میں خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ حضرت ابو بردہ کو کھدر کی موٹی چادر اور تہ بند نکال کر دکھائی اور بتایا کہ حضور نے بوقت وفات یہ کپڑے پہن رکھے تھے۔( بخاری )9 حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے جب ازواج مطہرات سے ایک ماہ کیلئے علیحدگی اختیار فرمائی اور بالا خانے میں قیام فرمایا تو میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں آپ ایک خالی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔جس پر کوئی چادر یا گدیلا وغیرہ نہیں اور چٹائی کے اثر سے آپ کے بدن مبارک پر بدھیاں پڑ چکی تھیں۔آپ ایک سیکیے سے سہارا لئے ہوئے تھے۔جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے تھے۔کمرے کے باقی ماحول پر نظر کی تو خدا کی قسم ! وہاں چمڑے کی تین خشک کھالوں کے سوا کچھ نہ تھا۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ دعا کریں اللہ آپ کی اُمت کو فراخی عطا کرے، ایرانیوں اور رومیوں کو دنیا کی کتنی فراخی عطا ہے حالانکہ وہ خدا کی عبادت بھی نہیں کرتے۔نبی کریم اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے عمرا تم بھی ان خیالوں میں ہو۔ان لوگوں کو عمدہ چیز میں اسی دنیا میں پہلے عطا کر دی گئی ہیں۔مومنوں کو آئندہ ملیں گی۔( بخاری ) 10 دوسری روایت میں تفصیل ہے کہ چٹائی پر لیٹنے کے نشان رسول اللہ کے جسم پر دیکھ کر حضرت ابو بکر اور عمر رونے لگے اور حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اللہ کے معزز ترین انسان ہیں آپ کا یہ حال ہے جب کہ قیصر و کسری ریشم کے بچھونے رکھتے ہیں۔رسول کریم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کو دنیا مل جائے اور ہمارے لیے آخرت ہو۔نیز فرمایا قیصر و کسریٰ کا انجام تو آگ ہے اور میری اس کھردری چار پائی کا ٹھکانہ جنت ہے“۔( احمد ) 11 غذا میں سادگی کھانے میں سادگی اور قناعت کا یہ عالم تھا فرماتے تھے کہ میرا دل کرتا ہے ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیر ہو کر کھالوں۔جس دن بھوکا ہوں اپنے رب سے تضرع اور دعا کروں اور سیر ہوکر اللہ کا شکر بجالاؤں۔( ترمذی )12 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ہجرت مدینہ کے بعد ابتدائی زمانہ میں تو خاص طور پر آپ کی خوراک اور غذا بہت