اسوہء انسانِ کامل — Page 544
اسوہ انسان کامل 544 نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ اسی طرح مدینہ میں داخل ہوتے وقت بھی ایک اور شان تو گل نظر آئی۔انصار مدینہ میں سے ہر فدائی اور عاشق صادق کی خواہش تھی کہ رسول اللہ ان کے ہاں مہمان ٹھہریں۔رسول اللہ نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ خدا کے حکم سے جہاں بیٹھے گی وہیں میں قیام کرونگا۔چنانچہ یہ اونٹنی ایک جگہ آکر بیٹھ گئی۔رسول اللہ بھی اترے نہیں تھے کہ اونٹنی ایک دفعہ پھر کھڑی ہوگئی اور تھوڑی دور تک گئی۔رسول کریم نے اس کی باگ کھلی چھوڑ رکھی تھی۔آپ کے موڑے بغیر وہ دوبارہ اسی جگہ آکر بیٹھ گئی۔رسول کریم اتر کر اس جگہ سے قریب ترین گھر میں تشریف لے گئے جو حضرت ابوایوب انصاری کا تھا۔(ابن ہشام و بیہقی ) 23 جب اسباب بالکل معدوم نظر آتے تھے۔اس وقت بھی رسول کریم مایوس نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ خدا پر بھروسہ کرتے تھے۔غزوہ بدر میں سخت کمزوری کا عالم تھا کہ 313 نہتوں کا ایک لشکر جرار سے مقابلہ تھا اور ایک ایک سپاہی کی بڑی قیمت تھی۔اس خطرناک حالت میں بھی رسول کریم کی شان تو کل پر کوئی مایوسی کا سایہ نہیں پڑا۔اس سفر میں ایک بہت بہادر مشرک پہلوان حاضر خدمت ہوا اور کہا کہ مجھے بھی جنگ کے مال غنیمت سے حصہ دیں تو میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شامل ہوتا ہوں۔آپ نے فرمایا کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے اسے واپس لوٹا دیا وہ دوسری مرتبہ آیا اور مدد کی حامی بھری مگر آپ نے پسند نہ فرمایا کہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک مشرک کی مدد لی جائے۔تیسری مرتبہ اس نے کلمہ شہادت کا اقرار کر کے جنگ میں شامل ہونے کی درخواست کی تو آپ نے قبول فرمالی۔(مسلم ) 24 اس جنگ میں شرکت کے ارادہ سے دو صحابہ حضرت حذیفہ اور ابو سہل" گھر سے نکلے۔راستہ میں ان کو کفار قریش نے پکڑ لیا اور زبردستی ان سے عہد لیا کہ جنگ میں رسول اللہ کی مدد نہیں کریں گے۔انہوں نے حضور کی خدمت میں جب سارا ماجرہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اپنا عہد پورا کرو ہم دشمن کے مقابل پر دعا سے مدد چاہیں گے۔(مسلم )25 غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم نے دشمن کے ممکنہ مقابلہ کے لئے پہلے اپنے ۳۱۳ نبتے صحابہ کی صفیں ترتیب دیں۔اس تدبیر سے فارغ ہو کر آپ دعاؤں میں لگ گئے ، یہ ہے کامل تو کل کی مثال۔الغرض خدا کی ذات پر کامل بھروسہ کے نمونے جس طرح نبی کریم کی ذات میں نظر آتے ہیں اور کہیں ملنے محال ہیں۔مدینہ میں ایک رات اچانک شور اُٹھا۔جنگ کا زمانہ تھا خطرہ ہوا کہ کسی دشمن نے حملہ نہ کر دیا ہو۔لوگ جمع ہونے لگے کہ مشورہ کر کے کوئی کا روائی کریں۔اُدھر خدا کا متوکل نبی تن تنہا حقیقت حال معلوم کر نے گھوڑے کی نگی پشت پرنکل کھڑا ہوا۔تلوار گردن میں لٹکی ہوئی تھی۔جب تک لوگ باہر نکلے آپ سب خبر معلوم کر کے واپس بھی آچکے تھے اور لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمارہے تھے۔خوف کی کوئی بات نہیں۔میں چکر لگا کر دیکھ آیا ہوں اور اس گھوڑے کو تو میں نے سمندر کی طرح تیز رفتار پایا ہے۔( بخاری ) 26 حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے تھے کہ رسول کریم کے عظیم الشان تو کل کا ذکر قرآن شریف کی اس آیت میں