اسوہء انسانِ کامل — Page 543
543 نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ اسوہ انسان کامل ہر چند کہ حضرت ابو طالب اور خدیجہ کی وفات کے بعد مکہ میں رسول اللہ کے لئے گزر بسر بہت مشکل ہو گئی تھی۔تبلیغ حق کی خاطر طائف کا قصد کیا تو وہاں بھی کامیابی نہ ہوئی۔اب آپ مکہ میں خطرناک دشمنوں کے درمیان رہ رہے تھے۔مسلمانوں کا ایک حصہ پہلے ہی حبشہ ہجرت کر چکا تھا۔اور رسول اللہ کی اس خواب کی بناء پر کہ کھجوروں والی سرزمین پر ہماری ہجرت ہوئی ہے۔باقی ماندہ مسلمانوں نے یثرب (مدینہ) ہجرت کرنی شروع کی۔یہاں تک کہ حضور کے مشیران خاص اور دست راست بھی ہجرت کر گئے حضرت عمر نے بھی ہجرت کر لی اور حضرت ابوبکر عبادت الہی اور تلاوت قرآن کریم میں مشرکین کی آئے دن کی روکاوٹیں دیکھ کر مکہ چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے۔مگر قارہ قبیلہ کے رئیس ابن الدغنہ آپ کو اپنی امان میں واپس لے آئے۔رسول کریم ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے منتظر تھے۔جس کی تاخیر میں یہ حکمت بھی ہوگی کہ مظلوم مسلمان کے سے محفوظ طور پر نئے دارالہجرت کی طرف نکل جائیں۔چنانچہ اس زمانہ میں جب حضرت ابوبکر نے دوبارہ ہجرت کا قصد کیا تو رسول کریم نے انہیں فرمایا کہ ابھی آپ ٹھہریں امید ہے مجھے بھی ہجرت کی اجازت ہو جائے گی۔پھر اذن ہجرت ہونے پر رسول اللہ حضرت ابوبکرؓ کی معیت میں نہایت خوفناک حالات میں اللہ پر تو کل کرتے ہوئے مکہ سے نکلے۔( بخاری )19 اس سفر میں رسول اللہ کے تو کل کی عجیب شان ظاہر ہوئی۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے ان سے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں پناہ گزیں تھے تو میں نے نبی کریم سے کہا اگر مشرکین میں کوئی اپنے پاؤں کی جگہ پر جھک کر نظر ڈالے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے۔آپ نے فرمایا اے ابو بکر تمہارا ان دواشخاص کے بارہ میں کیا گمان ہے۔جن کے ساتھ تیسرا خدا ہے۔( بخاری ) 20 حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر کی تو ایک رات اور ایک دن ہی عمر اور اس کی تمام اولاد سے بہتر ہیں۔اس کی ایک رات وہ تھی جب وہ رسول اللہ کے ساتھ غار ثور میں پناہ گزیں تھے۔غار میں بچھوؤں اور سانپوں کے کئی سوراخ اور بل تھے۔حضرت ابوبکر کو اندیشہ ہوا کہ کوئی موذی کیڑا حضور کو نقصان نہ پہنچائے۔انہوں نے اپنے پاؤں ان سوراخوں پر رکھ کرا کو بند کر دیا۔کسی کیڑے نے آپ کو کاٹ لیا تو تکلیف سے آنسو گرنے لگے۔رسول کریم نے فرمایا اے ابوبکر! غم نہ کر اور پریشان نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکینت عطا فرمائی۔(بیہقی )21 حضرت ابو بکر کی اپنی روایت ہے کہ سفر ہجرت کے دوران جب سراقہ گھوڑے پر سوار تعاقب کرتے ہوئے ہمارے قریب پہنچ گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب تو پکڑنے والے بالکل سر پہ آپہنچے اور میں اپنے لئے نہیں بلکہ آپ کی خاطر فکرمند ہوں۔آپ نے فرمایا لَا تَحْزَرُ إِنَّ اللهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔چنانچہ اسی وقت آپ کی دعا سے سراقہ کا گھوڑا زمین میں پھنس گیا۔اور وہ آپ کی خدمت میں امان کا طالب ہوا۔(الحلبیہ )22 اس وقت کس شان تو کل سے آپ نے سراقہ کے حق میں یہ عظیم الشان پیشگوئی کی کہ سراقہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں ہونگے۔رسول اللہ کو جس طرح مکہ سے نکلتے ہوئے اپنے مولیٰ پر کامل بھروسہ تھا۔