اسوہء انسانِ کامل — Page 532
اسوہ انسان کامل 532 نبی کریم کا شاندار حلم صلى الله نبی کریم ﷺ کا شاندار حلم حلم کے معنی عقل اور سمجھ کے ہیں۔مد مقابل کی نادانی اور زیادتی دیکھ کر عجلت میں گرفت کرنے کی بجائے ڈھیل دینا، طبیعت کا دھیما پن اور زبان کی نرمی حلم کے دائرہ میں داخل ہے، جو دراصل عفو کی ہی قسم ہے۔حلیم اللہ تعالی کی وہ صفت ہے جس کا وہ بلاتمیز اپنی تمام مخلوق کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔رسول کریم فرماتے تھے کہ اپنے خلاف تکلیف وہ بات سن کر اس پر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔کچھ لوگ ایک انسان کو اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔مگر وہ ان کو بھی معاف کرتا ہے اور رزق بہم پہنچاتا ہے۔( بخاری ) 1 رسول کریم اللہ تعالیٰ کی صفت حلم کا بھی بہترین نمونہ تھے۔اور آپ کا یہ حلم اپنے محل اور موقع پریشان دکھا نا تھا اور یہی قابل تعریف خلق ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم نے کبھی کسی خادم یا بیوی کو نہیں مارا ، نہ کبھی کسی پر ہاتھ اٹھایا سوائے جہاد فی سبیل اللہ میں تلوار اُٹھانے کے کبھی آپ نے کسی برا بھلا کہنے والے سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ہاں اگر کوئی اللہ کا حکم تو ڑتا تو اسے ضرور سزا دیتے تھے۔(مسلم)2 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ” دھیما پن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلدی شیطان کی طرف سے اور اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی بھی زیادہ عذر پر نظر کرنے والا نہیں۔( یعنی اس کی رحمت بہانے ڈھونڈتی ہے ) اور کوئی بھی چیز حلم سے زیادہ اللہ کو پیاری نہیں۔( بیٹمی )3 اسی طرح آپ فرماتے تھے علم سکھاؤ اور آسانی پیدا کرونگی پیدانہ کرو، اور جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔جب غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔جب غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔“ ( احمد )4 در اصل رسول کریم ﷺ کی طبیعت اور مزاج میں ہی نرمی اور آسانی رکھی گئی تھی۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ رسول کریم کو جب بھی دو معاملات میں اختیار ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان راستہ اختیار فرماتے تھے۔اسامہ مین شریک بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کر کے بیٹھ گیا بڈولوگ آکر آپ سے سوال کرنے لگے کسی نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہم علاج معالجہ کرتے ہیں کیا یہ ٹھیک ہے؟ آپ نے فرمایا ضرور علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں پیدا کی مگر اس کی دوا بنائی ہے سوائے بڑھاپے کے کہ اس کی کوئی دوا نہیں۔کسی اور بہو نے پوچھا کہ فلاں فلاں بات میں کوئی حرج ہے؟ نبی کریم نے فرمایا اے خدا کے بندو! اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے حرج اُٹھا دیا ہے۔سوائے اس کے کہ کوئی کسی مسلمان بھائی پر ظلم کرے تو اس میں حرج ہے بلکہ ہلاکت ہے۔کسی نے پوچھا یا رسول اللہ؟