اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 509 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 509

اسوہ انسان کامل کریں گے۔509 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار پانچویں شق کے مطابق فریقین ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں گے اور نقصان نہیں پہنچائیں گے۔(ابن ہشام )20 ہر چند کہ مدینہ کے یہودی مسلسل معاہدہ شکنی کے مرتکب ہوتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کے ساتھ ایفائے عہد کے علاوہ حسن سلوک کا بھی خیال رکھا۔یہودی نبی کریم کی مجالس میں حاضر ہوتے تو آپ ان سے حسن معاملہ فرماتے تھے چنانچہ کسی یہودی کو حضور کی مجلس میں چھینک آ جاتی تو آپ اسے یہ دعا دیتے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال اچھا کر دے۔(سیوطی ) 21 اس کے برعکس یہود کا سلوک اپنے حسد اور کینہ کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ گستاخانہ رہا۔وہ طرح طرح کے سوالات کے ذریعہ آپ کی آزمائش کرتے آپ کی مجالس میں آتے تو اپنی تحریف کی عادت سے مجبور حضور کی مجلس میں بھی الفاظ بگاڑ کر تمسخر کرتے اور اپنی طرف توجہ پھیرنے کے لئے راعِنَا یعنی ہماری رعایت کر۔اس کی بجائے راعيــــــا کہتے جس کے معنے ہمارے چرواہے یا نوکر کے ہیں۔یہود آپ کی مجلس میں آکر سلام کرنے کے بجائے السلام علیکم کہتے جس کے معنے ہیں معاذ اللہ آپ پر لعنت اور ہلاکت ہو۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ کچھ یہودی آئے۔انہوں نے السام علیک کہہ کر نبی کریم کو طعن کیا۔میں سمجھ گئی اور بول پڑی کہ اے یہود یو ا تم پر لعنت اور ہلاکت ہو نبی کریم ﷺ نے یہود کو کچھ کہنے کی بجائے مجھے سمجھایا اور فرمایا ٹھہرو اے عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر بات میں نرمی پسند کرتا ہے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے سنا نہیں انہوں نے آپ کو کیا کہا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے بھی تو و علیکم کہ دیا تھا کہ تم پر۔دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ کے برا بھلا کہنے پر نبی کریم نے ان کو روکا سمجھایا اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ مخش بات پسند نہیں کرتا۔( بخاری 22 ) اسی سلسلہ میں یہ آیت بھی اتری کہ وَإِذَا جَاءُ وَكَ حَيَّرُكَ بِمَالَمْ يُحَيْكَ بِهِ الله ( المجادلة:9) یعنی جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو وہ تجھے ان الفاظ میں سلام کرتے ہیں جن میں تجھے اللہ نے سلام نہیں کیا۔اور اپنے دلوں میں سوچتے اور اپنے لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہم جو اس رسول کو ) بُرا بھلا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ان کے لئے جہنم کافی ہے وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ بہت بُر اٹھکانا ہے۔( احمد ) 23 نبی کریم سے کسی صحابی نے سوال کیا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ہم انہیں کیسے جواب دیں؟ آپ نے فرمایا علیکم کہہ کر جواب دے دیا کرو یعنی تم پر بھی۔( بخاری ) 24 ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک گروہ کے پاس سے گزرے جن میں مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور مشرک بھی تھے۔آپ نے جملہ اہل مجلس کو السلام علیکم کہا۔( بخاری )25 فتح خیبر کے موقع پر رسول کریم کی خدمت میں یہود نے شکایت کی کہ مسلمانوں نے ان کے جانور لوٹے اور پھل