اسوہء انسانِ کامل — Page 508
508 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اسوہ انسان کامل حضرت مغیرہ بن شعبہ نے رسول کریم کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ وہ وفد ثقیف کو اپنا مہمان رکھنا چاہتے ہیں رسول کریم نے فرمایا کہ میں تمہیں ان کے اکرام وعزت سے نہیں روکتا مگر ان کی رہائش وہیں ہونی چاہئے جہاں وہ قرآن سن سکیں۔چنانچہ حضور نے سب کے لئے مسجد میں خیمے لگوا دئیے تاکہ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھیں اور قرآن سنیں۔( بیہقی ) 16 رسول کریم نے غیر حربی مشرکین سے ہمیشہ حسن معاملہ کا طریق اختیار فرمایا۔ایک دفعہ مشرک مہمان کی خود مہمان نوازی کی اور اسے سات بکریوں کا دودھ پلایا۔( ترمذی ) 17 ایک دفعہ ریشم کا لباس تحفہ آیا تو رسول کریم نے حضرت عمر کو دیا انہوں نے عرض کیا کہ ریشم تو مردوں کے لئے منع ہے وہ اسے کیا کریں گے؟ فرمایا کسی اور کو دے دیں۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے مشرک بھائی کو بطور تحفہ دے دیا۔( بخاری )18 ایک شریف النفس مشرک سردار طعم بن عدی ( جو غزوہ بدر کے زمانہ میں وفات پاچکے تھے ) کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے اور بدر کے قیدیوں کی آزادی کے لئے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر تمام قیدیوں کو بلا معاوضہ ) آزاد کر دیتا۔( بخاری )19 یہود مدینہ سے سلوک نبی کریم مدینہ تشریف لائے تو یہود، مشرکین اور دیگر قبائل نے مدینہ کے ساتھ معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے معروف ہے۔یہ معاہدہ آزادی مذہب اور حریت ضمیر کی بہترین ضمانت ہے۔اس معاہدہ کی مذہبی آزادی سے متعلق شقوں کا ذکر یہاں مناسب ہوگا۔اس معاہدہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ یہود کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور اس معاہدہ کے نتیجہ میں کچھ حقوق انہیں حاصل ہوں گے اور کچھ ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔معاہدہ کی دوسری اہم شق ی تھی کہ مدینہ کے مسلمان مہاجرین و انصار اور یہود اس معاہدہ کی رو سے امت واحدہ“ ہونگے۔ظاہر ہے مذہبی آزادی اور اپنے اپنے دین پر قائم رہنے کے بعد امت واحدہ سے مراد وحدت اور امت کا سیاسی تصور ہی ہے۔معاہدہ کی تیسری بنیادی شق میں صراحت ہے کہ بنی عوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک سیاسی امت ہوں گے۔یہود کو اپنے دین کی آزادی اور مسلمانوں کو اپنے دین میں مکمل آزادی ہوگی۔معاہدہ کی چوتھی شق کے مطابق مسلمانوں اور یہود کے مدینہ پر حملہ کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد لازم تھی۔مسلمان اپنے اخراجات کے ذمہ دار اور یہود اپنے اخراجات کے ذمہ دار خود ہو نگے البتہ جنگ میں باہم مل کر خرچ