اسوہء انسانِ کامل — Page 495
اسوہ انسان کامل 495 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ بچہ رسول کریم کے پاس سے جانے لگا تو حضرت معاذ بن جبل نے اپنا ہاتھ اس بچے کے سر پر رکھا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری یتیمی کا مداوا کرے اور تمہارے باپ کا اچھا جانشین تم کو عطا کرے۔رسول اللہ نے فرمایا اے معاد : تم نے اس بچے کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ میں نے دیکھا ہے۔انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس بچے سے محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر میں نے ایسا کیا۔نبی کریم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے مسلمانوں میں سے کوئی شخص یتیم کا والی نہیں بنتا مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو یتیم کے ہر بال کے عوض ایک درجہ بڑھاتا ہے اور ہر بال کے عوض ایک اور نیکی عطا کرتا اور ہر بال کے برابر ایک گناہ معاف فرماتا ہے۔( صیمی )30 شہدائے جنگ موتہ کے پسماندگان سے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حسن سلوک کیا آپ کے چچازاد حضرت جعفر طیار بھی اس جنگ میں شہید ہوئے تھے۔رسول کریم بنفس نفیس حضرت جعفر کے گھر ان کی شہادت کی خبر دینے تشریف لے گئے۔حضرت جعفر کی بیوہ حضرت اسماء بنت عمیس کا بیان ہے ” جب حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر آئی تو آنحضرت ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے۔میں گھر کے کام کاج آنا وغیرہ گوندھنے کے بعد بچوں کو نہلا دھلا کر فارغ ہوئی ہی تھی۔آپ نے فرمایا کہ جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ۔میں انہیں حضور کے پاس لے آئی۔آپ نے ان کو گلے لگایا اور پیار کیا آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔اسلام کہتی ہیں میں نے گھبرا کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ کس وجہ سے روتے ہیں؟ کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے بارہ میں کوئی خبر آئی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ آج شہید ہو گئے۔حضرت اسماء کہتی ہیں میں اس اچانک خبر کو سن کر چیخنے لگی۔دیگر عورتیں بھی افسوس کے لئے ہمارے گھر اکٹھی ہو گئیں۔رسول کریم ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے اور ہدایت فرمائی کہ "جعفر" کے گھر والوں کا خیال رکھنا اور انہیں کھانا وغیرہ بنا کر بھیجوانا کیونکہ اس صدمہ کی وجہ سے انہیں مصروفیت ہوگئی ہے۔“ حضرت شعمی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسمان کو شہادت جعفر کی اطلاع دے کر ان کے حال پر چھوڑ دیا تا کہ وہ آنسو بہا کر غم غلط کر لیں۔پھر آپ دوبارہ ان کے ہاں تشریف لائے اور تعزیت فرمائی اور بچوں کیلئے دعا کی۔(مسند احمد ) 31 تیسرے روز آپ پھر حضرت جعفر کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ بس اب آج کے بعد میرے بھائی پر مزید نہیں رونا۔آپ نے ان کے یتیم بچوں کی کفالت کا انتظام وانصرام اپنے ذمہ لے لیا اور ان کی بیوہ سے فرمایا کہ میرے بھائی کے بیٹے میرے پاس لاؤ۔حضرت جعفر کے بیٹے عبداللہ کا بیان ہے کہ ہمیں حضور کے پاس اس طرح لایا گیا جیسے مرغی کے چوزے پکڑ کر لائے جاتے ہیں۔آپ نے حجام کو بلوایا ہمارے بال وغیرہ کٹوائے اور ہمیں تیار کر وایا۔بہت محبت و پیار کا سلوک کیا اور فرمایا ” جعفر طیار کا بیٹا محمد تو ہمارے چچا ابو طالب سے خوب مشابہ ہے اور دوسرا بیٹا اپنے باپ کی طرح شکل اور رنگ ڈھنگ میں مجھ سے مشابہ ہے۔پھر میرا ہاتھ پکڑا اور گویا خدا تعالیٰ کے سپر د کرتے ہوئے درد رض