اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 489 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 489

اسوہ انسان کامل یتامی اور بیوگان کے متعلق اسلامی تعلیم 489 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ قرآن شریف میں مسلمانوں کو خاص طور پر یتامی اور بیوگان کے ساتھ نیکی اور احسان کا سلوک کرنے کی بار بار یاد دہانی کروائی گئی ہے۔یہ ذمہ داری اولین طور پر صاحب حیثیت قریبی رشتہ داروں کی ہے۔جس کی ادائیگی کو قرآن شریف میں بلند چوٹی سر کرنے جیسی اعلی نیکی قرار دیا ہے۔(البلد :12 تا 19 ) اس لئے بیوگان کے لئے یہ ہدایت فرمائی کہ تم اپنے میں سے بیوہ عورتوں اور نیک چلن لونڈیوں کی شادیاں کرواؤ۔( النور : 33 ) قریبی رشتہ داروں کی طرف سے یہ فرائض ادا نہ کرنے کی صورت میں یہ ذمہ داری معاشرہ پر عائد ہوتی ہے۔بانی اسلام ﷺ نے والدین اور خونی رشتوں کے بعد اولین طور پر یتامیٰ اور مساکین کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یتیم لڑکے کی بلوغت اور لڑکی کی شادی ہونے تک عمدہ پرورش اور بہترین اخلاقی و دینی تربیت کی جائے۔یتیم کا لفظ تم سے نکلا ہے جس کے معنے غفلت اورست روی کے ہوتے ہیں۔بچے کو والد کی وفات کے بعد یتیم اس لئے کہا جاتا ہے کہ بالعموم اس کے ساتھ حسن سلوک میں غفلت برتی جاتی ہے۔اس طرح مسکین کا لفظ سکن سے ہے، جس کے معنی حرکت سے معذور اور کمانے سے عاجز محتاج کے ہیں جس میں تنگدست بیوگان بھی آجاتی ہیں۔ان سب کی ضروریات اور حقوق کی ادائیگی کے لئے اسلامی نظام میں بیت المال کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ کے ذریعہ نازل کی جانیوالی کامل تعلیم میں جہاں اس دور کی معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں از راہ اصلاح جذبات ابھارنے والے پر حکمت انداز میں بیتامی کے اموال کی حفاظت کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”جو لوگ ڈرتے ہوں کہ وہ اپنے بعد کمزور اولا د چھوڑ گئے تو اس کا کیا بنے گا، ان کو دوسرے تیموں کے متعلق بھی اللہ کے ڈر سے کام لینا چاہیے۔اور چاہیے کہ وہ صاف اور سیدھی بات کہیں۔جو لوگ ظلم سے یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ یقیناً اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور یقیناً شعلہ زن آگ میں داخل ہوں گے۔“ ( النساء 10-11) اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریق پر کہ وہ بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو۔یقیناً عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔( بنی اسرائیل: 35 ) یتامی کی اصلاح و تربیت سے متعلق معاشرتی حقوق کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اور لوگ تجھ سے یتامی کے بارہ میں پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ ان کی اصلاح بہت اچھا کام ہے اور اگر تم ان سے مل جل کر ر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ وہ تمہارے بھائی ہی ہیں اور اللہ فساد کرنے والے کو اصلاح کرنے والے کے مقابلہ میں خوب جانتا ہے۔(البقرہ: 221) حضرت عائشہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتی ہیں کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جانے کے قرآنی حکم پر صحابہ نے اس سختی سے عمل کیا کہ اپنے زیر پرورش یتیموں کا کھانا پینا تک الگ کر دیا اور انکا بچا کھچا بھی استعمال کرنے کی بجائے ضائع کر دینے کو ترجیح دینے لگے۔تب مذکورہ آیت میں واضح کیا گیا کہ ان سے میل جول میں حرج نہیں اور اللہ کی بندوں کی