اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 488 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 488

اسوہ انسان کامل 488 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ۔۔۔۔۔۔یہی حال بیوگان کے حقوق کی پامالی کا تھا۔شوہر کی وفات کے بعد ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جاتا تھا۔ہندوستان میں عورتیں شوہر کی میت کے ساتھ ستی کی رسم کے مطابق جلا کر خاکستر کر دی جاتی تھیں۔تو عرب میں بیوہ عورتوں کا حال بھی زندہ درگور کرنے کے مترادف تھا۔عرب دستور کے مطابق جاہلیت کے زمانہ میں بیوہ عورت خودشوہر کی وراثت میں تقسیم ہوتی تھی۔مرد کے قریبی رشتہ دار ( مثلاً بڑا سوتیلا بیٹا ) عورت کا سب سے زیادہ حق دار سمجھا جاتا تھا۔وہ چاہتا تو خود اس عورت سے شادی کر لیتا۔وہ خود شادی نہ کرنا چاہتے تو ان کی مرضی کے بغیر ہی دوسری جگہ شادی نہ ہو سکتی الغرض بیوہ کا اپنا کوئی حق نہ تھا۔نبی کریم نے بیوہ عورت کو نکاح کا حق دیا اور فرمایا کہ وہ اپنی ذات کے بارہ میں فیصلہ کے متعلق ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔( بخاری )2 خاوند کی وفات کے بعد عرب میں بیوہ عورت کا حال بہت رسوا کن اور بدتر ہوتا تھا۔اسے بدترین لباس پہنا کر گھر سے الگ تھلگ ویران حصہ میں ایک سال تک عدت گزارنے کے لئے رکھا جاتا۔سال کے بعد عربوں کے دستور کے مطابق کسی گزرنے والے کتنے پر بکری کی مینگنی پھینک کر اس قید خانہ سے باہر آتی تھی۔( بخاری )3 حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے عورت کو مخاطب کر کے زمانہ جاہلیت میں اس کی مظلومیت کا کیا ہی عمدہ نقشہ یوں کھینچا ہے:۔کیا تیری قدر و قیمت تھی؟ کچھ سوچ تیری کیا عزت تھی ؟ تھا موت سے بدتر ہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی عورت ہو نا تھی سخت خطا، تھے تجھ پر سارے جبر روا یہ مجرم نہ بخشا جاتا تھا، تا مرگ سزائیں پاتی تھی گویا تو کنکر پتھر تھی احساس نہ تھا جذ بات نہ تھے تو ہین و اپنی یاد تو کر ! تر کہ میں بانٹی جاتی تھی وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جاتا ہے تو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے الغرض رسول اللہ کی بعث کے وقت ما سوائے اعلیٰ درجہ کے اخلاق فاضلہ رکھنے والے چند افراد کے یتامیٰ اور بیوگان سے حسن سلوک کی خوبی بالعموم معاشرہ سے ناپید ہو چکی تھی۔ان با اخلاق وجودوں میں رسول اللہ کے دادا عبدالمطلب اور چا ابوطالب نمایاں ہیں۔جنہیں اس خوبی میں شہرت کے باعث عرب شاعر نے بھی تمــالُ اليتامى عصمة للارامل “ کا خطاب دیا یعنی یتامیٰ کے لئے معاشرہ کا باقی آخری سہارا اور بیوگان کی عصمت کے محافظ ! اور ان دو وجودوں کا باقی رہنا بھی مشیت ایزدی تھی کیونکہ انہوں نے زمانے میں انقلاب پیدا کرنے والے ایک عظیم الشان وجود کی کفالت کرنی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ الَمْ يَجِدُكَ يَتِيماً فَاوَى (الضحى: ٧) کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا تھا ؟ پس پناہ دی۔جہاں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی کم سنی اور عالم بے کسی میں ان وجودوں کو ایک پناہ گاہ بنا دیا۔وہاں خود رسول کریم کو اس دور میں سے گزار کر یتیموں کے مسائل کا عملی ادراک بھی عطا فر مایا تا کہ تیموں کی قدرومنزلت کے لطیف احساس سے آپ ان کے حقوق ادا کر سکیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود آپ کی ذات کے لئے یتیم کا لفظ استعمال کر کے تمام دنیا کے قیموں کے لئے اسے موجب عزت و اکرام بنا دیا۔