اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 480 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 480

اسوہ انسان کامل 480 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک وہ لمبے قد کے تھے بالآ خر عبداللہ بن ابی کا قمیص انکو پورا آیا جوان کو مہیا کیا گیا۔( بخاری )2 بدر کے قیدیوں کی آزادی اس زمانے کے دستور کے مطابق بدر کے جنگی قیدیوں کی سزا موت تھی۔جیسا کہ استثناء میں یہودونصاری کو بھی یہی تعلیم ہے کہ جس قوم پر فتح پاؤ مردوں کو قتل کردو اور عورتوں بچوں کو قیدی بنالو۔مگر نبی کریم نے اپنے ان جانی دشمنوں کے ساتھ نہایت احسان کا سلوک کرتے ہوئے ان کی جان بخشی فرمائی باوجود یکہ حضرت عمر یہ رائے پیش کر چکے تھے کہ یہ سرداران کفر اور قریش کے سرکردہ لوگ ہیں اور اس لائق ہیں کہ سب قتل کئے جائیں مگر رسول کریم بار بار ان کے لئے رحم کے جذبات ابھارتے اور فرماتے ”اب اللہ نے تم لوگوں کو ان پر قبضہ اور اختیار دیدیا ہے اور یہ کل تک تمہارے بھائی تھے۔تب حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اُن کو معاف کر کے فدیہ قبول فرما ئیں۔رسول کریم یہ مشورہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بالآخر یہی فیصلہ فرمایا اور قیدیوں سے فدیہ قبول فرمالیا۔(احمد) 3 ہر قیدی کا فدیہ اس کی استطاعت کے مطابق ایک ہزار سے چار ہزار درہم تک تھا۔مگر وہ قیدی جو غریب اور نادار تھے اور فدیہ دینے کی طاقت نہ رکھتے تھے رسول کریم ﷺ نے انہیں بغیر فدیہ کے آزاد فر ما دیا۔جیسے ابوعزہ عمرو بن عبداللہ۔( ابن ہشام) 4 بعض اور قیدیوں کو جو فدیہ کی طاقت نہیں رکھتے تھے مگر لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں اختیار دیا گیا کہ اگر وہ انصار کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو آزاد ہونگے چنانچہ جب بچے لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جاتے انہیں آزاد کر دیا جاتا۔( ابن سعد )5 مسلمانوں کے قیدیوں کے ساتھ اس حسن سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ قیدیوں میں سے کئی مسلمان ہو گئے جن کی تعداد سولہ کے قریب ہے۔ان میں عقیل بن ابی طالب، نوفل بن حارث، ابوالعاص بن ربیع ، ابو عزیز بن عمیر ، خالد بن ہشام، سھیل بن عمر د وغیرہ شامل ہیں۔نبی کریم نے عام طور پر بھی غلاموں کی آزادی کی تحریک فرمائی اور اسے بہت نیکی اور ثواب کا کام قرار دیا۔آپ نے کئی قسم کی خطاؤں کا کفارہ غلام آزاد کرنا مقرر فرمایا مثلا قتل خطا کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا، بیوی کو ماں کہنے سے اپنے او پر حرام قرار دے کر میاں بیوی کا تعلق قائم کرنے کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے، پختہ قسم کھا کر توڑنے کا کفارہ بھی غلام کی آزادی ہے۔رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کا اپنے جانی دشمنوں اور ان کے ساتھ جنگ میں شکست کھا کر قید ہونے والوں سے سلوک بھی ایسا شاندار تھا کہ مستشرقین بھی اس کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکے۔سرولیم میور اپنی کتاب لائف آف محمد میں مسلمانوں کے اسیران بدر کے ساتھ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔