اسوہء انسانِ کامل — Page 427
427 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم اسوہ انسان کامل کا امین ٹھہرایا ہے۔دراصل رسول اللہ نے اموال خمس میں سے بعض سرداران عرب کو اسلام سے قریب کرنے کے لئے جو انعام واکرام فرمایا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف وہ خود مسلمان ہوئے بلکہ ان کے قبائل بھی مسلمان ہو گئے۔نبی کریم کو اپنے ان اموال پر مکمل اختیار تھا لیکن تقسیم میں جو عدل پیش نظر تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو اموال دے رہا ہوں اس کی وجہ ان کی ایمانی کمزوری اور حرص ہے اور جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے نیکی اور غنار کھی ہے، انہیں میں نہیں دیتا۔( بخاری )30 ایک اور موقع پر حضور ﷺ نے یوں وضاحت فرمائی کہ میں بعض لوگوں کو تالیف قلبی کی خاطر دیتا ہوں جبکہ ان کے علاوہ بعض دوسرے لوگ مجھے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔مگر انہیں اسلام کے قریب کرنے کے لئے ایسا کرتا ہوں۔( بخاری )31 چنانچہ ایک دفعہ کچھ قیدی آئے۔حضرت فاطمہ نے بھی ایک خادم گھر یلو ضرورت کے لئے طلب کیا تو رسول کریم نے فرمایا خدا کی قسم! میں تمہیں عطا کر کے اہل صفہ یعنی غریب صحابہ کو محروم نہیں رکھ سکتا۔جو فاقوں سے بے حال ہیں اور جن کے نان ونفقہ کے لئے اخراجات میسر نہیں۔میں قیدی فروخت کر کے اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔(مسنداحمد )32 چنانچہ اس موقع پر اپنی بیٹی حضرت فاطمہ اور حضرت علی پر بھی غریب صحابہ کو ترجیح دی گئی جو عدل کی بہترین مثال ہے۔الغرض عدل گستری بھی حضرت محمد پر ختم ہے۔حواله جات 1 السيرة الحلبية جلد ١ ص90مطبوعه بيروت 2 مسند احمد جلد 3 ص 425 بخاری (97) كتاب الاحكام باب 13 4 ابوداؤد (25) كتاب الاقضية باب 6 5 بخاری (56) كتاب الشهادات باب 27 6 بخاری (56) کتاب الشهادات باب 9 7 عمدة القاری شرح بخاری لعینی جلد 18 ص 116 8 ابوداؤد (40) كتاب الديات باب 1 9 بخاری (91) كتاب الديات باب 6