اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 426 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 426

426 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم اسوہ انسان کامل الغرض رسول اللہ نے عدل وانصاف کے معاملہ میں کبھی جنبہ داری سے کام نہیں لیا۔خواہ اپنے اہل وعیال کا ہی معاملہ کیوں نہ ہو۔واقعہ افک میں آپ کی زوجہ حضرت عائشہ پر الزام لگا تو باوجود یکہ آپ کو حضرت عائشہ کی پاکدامنی پر کامل بھروسہ تھا ، پھر بھی عدل کے تقاضا کے تحت فرمایا کہ اے عائشہ کا یہ بات مجھ تک پہنچی ہے اگر تم اس سے بری ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری برأت ظاہر کر دے گا اور اگر کسی بشری کمزوری سے گناہ کر بیٹھی ہو تو اللہ سے بخشش مانگو۔بندہ جب گناہ کا اعتراف کر کے تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے۔( بخاری )25 رسول کریم اپنی ازواج مطہرات میں کمال عدل کا سلوک فرمانے کے بعد خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرتے تھے۔”اے اللہ ! نان و نفقہ اور مال کی تقسیم میں جس میں مجھے اختیار ہے۔پورے عدل سے کام لیتا ہوں مگر جس میں میرا اختیار نہیں یعنی قلبی میلان محبت اس میں مجھے معاف فرما دینا۔“ ( ابوداؤد ) 26 عوام میں عدل حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نصر نے ایک لونڈی کا دانت توڑ دیا۔لونڈی کے مالکوں نے اس کا معاوضہ مانگا۔( جو دس اونٹ تھا) ربیع کے خاندان نے معافی طلب کی مگر لونڈی کے ورثاء نہ مانے۔ربیع کے بھائی انس نے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہماری بہن ربیع کے دانت توڑے جائیں گے۔نہیں! اس خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے دانت ہرگز نہیں توڑے جائیں گے۔نبی کریم نے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اے انس ! اللہ کا فیصلہ قصاص ہے۔اس طرح آپ نے اس مخلص انصاری خاندان اپنے گہرے تعلق کے باوجود عدل کا دامن نہیں چھوڑا۔اگر چہ بعد میں یہ معاملہ باہم فریقین کی صلح کے نتیجہ میں انجام پایا۔( بخاری )27 اسی طرح اپنے اصحاب کے درمیان کمال عدل کے ساتھ آپ فیصلے فرماتے تھے ،مگر ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرماتے تھے کہ میں بھی انسان ہوں اور ممکن ہے کہ کوئی چرب زبان مجھ سے کوئی غلط فیصلے کر والے مگر وہ یا درکھے کہ جو چیز وہ ناحق لے گا وہ آگ کا ٹکڑا لے کر جائے گا۔چاہے تو لے لے چاہے تو اسے چھوڑ دے۔( بخاری ) 28 قیام عدل و احسان کے عجیب نظارے غزوہ حنین میں بھی ظاہر ہوئے۔رسول اللہ نے حسنین سے واپسی پر اموال غنیمت تقسیم کئے اور بعض عرب سرداروں کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہوئے بطور تالیف قلبی کے انعام و اکرام سے نوازا تو ایک شخص نے اعتراض کیا کہ اس تقسیم میں عدل سے کام نہیں لیا گیا۔رسول اللہ کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو اور کون کریگا۔اللہ تعالی موٹی پر رحم کرے ان پر اس سے بڑا الزام لگایا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔( بخاری )29 دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کیا میں عدل نہیں کروں گا حالانکہ آسمان وزمین کے خدا نے مجھے اپنی وحی