اسوہء انسانِ کامل — Page 393
اسوہ انسان کامل 393 غزوات النبی میں خلق عظیم جانوروں کے کاٹنے کا حکم ہوتا ہے؟ اور کیا پکوان پکائے جاتے ہیں؟ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَة کہنے والے کے جشن فتح کا نظارہ کچھ اس طرح ہے۔آپ اپنی چازاد بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے جاتے اور فرماتے ہیں بہن کچھ کھانے کو ہے؟ بہن شرمندہ ہے کہ گھر میں فی الفور اس شاہ دو عالم کیلئے روٹی کے چند خشک ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں۔آپ فرماتے ہیں وہ ٹکڑے ہی لے آؤ پھر آپ پانی منگوا کر وہ خشک ٹکڑے بھگو لیتے ہیں۔تھوڑا سا نمک او پر ڈالتے ہیں اور پوچھتے ہیں کچھ سالن ہے؟ ام ہانی عرض کرتی ہیں سالن تو نہیں سر کے کی کچھ تلچھٹ پڑی ہے اور رسول اللہ وہ بچا کھچا سر کہ ان گیلے نمکین ٹکڑوں پر ڈال کر مزے مزے سے کھانے لگتے ہیں اور ساتھ الحمد للہ الحمد للہ کہتے جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اُم ہائی اس کہ بھی کتنا اچھا سالن ہے۔یہ ہمارے آقا کا اپنی عظیم فتح کے دن کا کھانا ہے۔( ھیثمی )73 بے قرار سجدے فتح کے موقع پر نعرہ ہائے تکبیر یا اونٹنی کے پالان پر سجدہ تشکر تو در اصل رسول اللہ کے قلبی جذبات کا ایک ادنی ساعلامتی اظہار تھا کہ توحید الہی اور اپنے مولیٰ کی کبریائی کی کتنی غیرت اور جوش آپ کے دل میں موجزن ہے۔مگر کسے معلوم کہ ابھی تو کتنے ہی بے پناہ ان گنت بے قرار سجدے آپ کی پیشانی میں تڑپ رہے تھے جو بیت اللہ کی زینت بننے والے تھے۔دراصل انہی سجدوں سے آج بیت اللہ سجنے والا تھا۔وہی پاکیزہ پر خلوص اور عاجزی سے بھرے ہوئے سجدے اس گھر کی زینت بننے والے تھے جن کی خاطر یہ پہلا گھر بنایا گیا اور جن کی بیت اللہ کو بھی انتظار ہوگی۔اب ان سجدوں کی ادا ئیگی کا وقت آچکا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں آکر پہلا کام یہی کیا کہ اس کے اندر تشریف لے گئے اور بطور شکرانہ فتح نفل نماز ادا کی۔اس وقت حضرت اسامہ اور حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے اور کافی دیر خانہ کعبہ میں عبادت کرتے رہے۔( بخاری )74 پہلے آپ نے دوستونوں کے درمیان دو نفل ادا فرمائے پھر باہر تشریف لا کر بیت اللہ کے اندر کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان دو نفل ادا کئے پھر اندر تشریف لے گئے اور کافی دیر کھڑے دعا کرتے رہے حتی کہ خانہ کعبہ کے ہر کونے میں کھڑے ہوکر آپ نے دعا کی۔(الحلبیہ (75 بدسلوکی کے بدلے احسان طواف کے بعد آنحضرت ﷺ نے کلید بردار کعبہ عثمان بن طلحہ سے بیت اللہ کی چابیاں منگوائیں۔جب حضور مکہ میں تھے تو سوموار اور جمعرات کے دن خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا تھا اور لوگ اندر جاتے تھے۔ایک دفعہ آنحضرت اندر جانے لگے تو اسی عثمان نے اس پاک رسول کو خدا کے اس گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔جس کے لئے یہ گھر بنایا گیا تھا۔رسول خدا ﷺ نے اس وقت عثمان کو کہا تھا کہ اس خانہ خدا کی چابیاں ایک دن میرے پاس آئیں گی اور پھر جسے