اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 384 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 384

اسوہ انسان کامل 384 غزوات النبی میں خلق عظیم یہود خیبر سے مصالحت کی کوشش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہودی سازشوں کا اطلاع ہوئی تو آپ نے پہلے مصالحت سے اس فتنہ کو دبانے کی کوشش کی۔آپ نے یہود کو ایک خط میں لکھا کہ یہ خط موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہودی خیبر کے نام ہے۔اے یہود کے گروہ ! تمہاری کتاب تورات میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار (الفتح: 30) کی پیشگوئی موجود ہے۔میں تمہیں اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تم پر تو رات اتاری، جس نے تمہارے آباؤ اجداد کو من وسلویٰ عطا کیا اور سمندر خشک کر کے فرعون سے نجات بخشی۔سچ سچ بتاؤ کہ کیا تمہاری کتاب میں یہ لکھا ہوا موجود نہیں کہ تم محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور یاد رکھو ہدایت و گمراہی کھل چکی ہے میں تمہیں اللہ اور رسول کی طرف بلاتا ہوں۔(ابن ھشام ) 46 کیسا واضح اور خوبصورت اس خط کا مضمون ہے جو اظہار محبت و تبشیر اور انذار و تنبیہ کے حسین امتزاج کا مرقع ہے۔امن کی ان تمام کوششوں کا یہود نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔غزوہ خیبر میں محمود بن سلمہ کی شہادت کے بعد جب ان کے بھائی محمد بن مسلمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میرے بھائی محمود کو یہودیوں نے زیادتی سے قتل کیا ہے میں اس کا انتقام لے کر رہوں گا۔کوئی اور جرنیل ہوتا تو دشمن کے خلاف اپنے سپاہی کی اس جوش و غیرت کو سراہتا مگر اس موقع پر بھی صبر و استقامت کے اس علمبردار نے اعتدال کا کیسا عمدہ سبق دیا فر مایا دشمن سے مقابلہ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے اور خدا سے عافیت مانگو۔ہاں ! جب دشمن سے مٹھ بھیڑ ہو جائے تو پھر دعا اور تدبیر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو اور یہ دعا کرو۔اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَنَوَاصِيْنَا وَنَوَاصِيهِمُ بِيَدِكَ وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمُ أنت ( الحلبیہ ) 47 یعنی اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے ہم اور ہمارے دشمن سب تیرے قبضہ قدرت میں ہیں۔اب تو ہی ان کو مارے تو مارے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم رات کے وقت خیبر پہنچے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ کسی دشمن پر شب خون نہ مارتے تھے۔خیبر میں بھی آپ نے رات کے اندھیرے میں دشمن کے غافل ہونے کا فائدہ 48 نہیں اٹھایا۔( بخاری ) 18 صنف نازک کی عزت افزائی قدیم زمانہ میں رواج تھا کہ جنگ میں مردوں کا حوصلہ بڑھانے ، رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور دل بہلانے کیلئے عورتیں بھی شریک جنگ ہوتی تھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کا جو تقدس اور احترام قائم فرمایا اس لحاظ سے آپ کو یہ طریق سخت نا پسند تھا۔خیبر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص کچھ خواتین کو زخمیوں کی