اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 369 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 369

اسوہ انسان کامل 369 غزوات النبی میں خلق عظیم کے لئے وقف کی ہوں ، اُن سے میدان جنگ میں تعرض نہ کیا جائے۔اُن کے مذہب کی مقدس چیزوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے۔نہ ہی کسی آبادی کو ویران کیا جائے۔اور کسی جانور کو ذبح بھی نہ کریں سوائے اس کے جسے کھانا مقصود ہو۔کسی کو آگ سے نہ جلائیں۔(مالک)8 الغرض رسول کریم کو دشمن کے حملے سے مجبور ہو کر اپنا دفاع کرنے کے لئے جب تلوار اُٹھانا پڑی تو جنگ کی حالت میں جہاں دنیا سب کچھ جائز بھتی ہے ، آپ نے پہلی دفعہ دنیا کو جنگ کے آداب سے روشناس کرایا۔اس ضابطہ اخلاق کے ساتھ جب آپ جنگ کے لئے لکتے تو پھر آپ کا تمام تر تو کل اور بھروسہ خدا کی ذات پر ہوتا تھا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں رسول کریم جب کسی غزوہ کے لئے نکلتے تو یہ دعا کرتے اللهُم أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيْرِي وَبِكَ اقَاتِلُ ( احمد ) اے اللہ تو ہی میرا سہارا، تو ہی میرا مددگار ہے۔اور تیرے بھروسہ پر ہی میں لڑتا ہوں۔غزوہ بدر میں خلق عظیم ایک بہترین جرنیل کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل گرفت اپنے سپاہیوں پر ہوتی تھی۔غزوہ بدر کے موقع پر جب رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نے میدان بدر میں مشرکین سے پہلے پہنچ کر ڈیرے ڈالے تو آپ نے فرمایا ” کوئی شخص از خود کسی بات میں پہل نہ کرے جب تک میں اجازت نہ دوں۔“ پھر جب تک دشمن کی طرف سے حملہ نہیں ہوا، آپ نے مقابلہ کے لئے صحابہ کو دعوت نہیں دی۔جب دشمن سامنے صف آرا ہوئے تو صحابہ کوفرمایا ” اب اُس جنت کے حصول کے لئے اُٹھ کھڑے ہو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ پھر صحابہ نے اپنی جانیں خدا کی راہ میں خوب فدا کیں۔(احمد) 10 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں اپنے ساتھی سپاہیوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت رفاعہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے سفر میں ہم نے اچانک محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمراہ نہیں ہیں۔اصحاب رسول نے ایک دوسرے کو آواز دے کر پوچھا کہ تمہیں رسول اللہ کا کچھ پتہ ہے یا تمہارے ساتھ ہیں؟ جب کچھ پتہ نہ چلا تو سب رُک گئے۔اتنی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے تشریف لائے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم تو آپ کو موجود نہ پا کر پریشان ہو گئے تھے۔آپ نے فرمایا کہ علی کے پیٹ میں اچانک تکلیف ہوگئی اور میں اس کی تیمارداری کے لئے رک گیا تھا۔“ ( ھیثمی ) 11 نبی کریم کسی سواری پر بیک وقت تین آدمیوں کا سوار ہونا پسند نہیں فرماتے تھے کہ یہ بھی جانور پر زیادتی ہے۔بدر میں رسول اللہ کے صحابہ کے پاس چند اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ایک اونٹ کی سواری میں تین تین اصحاب شریک تھے، جو باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔حضرت علی اور حضرت ابولبابہ یا ابومرند غنوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری