اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 368 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 368

اسوہ انسان کامل 368 غزوات النبی میں خلق عظیم جو حقوق اور فرائض مہاجرین کے ہیں وہ ان کے ذمہ ہوں گے۔اگر وہ ہجرت پر آمادہ نہ ہوں تو انہیں بتاؤ کہ خانہ بدوش مسلمانوں کی طرح ان کے حقوق ہونگے۔مومنوں پر جو احکام لاگو ہیں وہی ان پر بھی ہونگے۔اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ ملکر جہاد کریں گے تو مال غنیمت وغیرہ سے حصہ پانے کے حقدار ہونگے۔اگر اس بات سے بھی انکار کریں تو ان سے اپنے مذہب پر قائم رہ کر اسلامی حکومت کی اطاعت کرتے ہوئے جزیہ کا مطالبہ کرو اگر وہ قبول کر لیں تو تم بھی اسے قبول کر کے حملہ سے رُک جانا لیکن اگر وہ ان تمام شرائط صلح سے انکاری ہوں تو پھر اللہ کا نام لے کر ان سے جنگ کرو۔(مسلم)3 رسول کریم نے یہاں تک تفصیلی ہدایات دیں کہ سفر جہاد پر جاتے ہوئے راستے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچنے پائے۔چنانچہ حضرت جابر کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا " اگر رات کو تم پر کوئی شب خون مارے تو اذان کہہ کر اپنے اسلام کا اعلان کرو اور راستے کے درمیان میں نماز نہ پڑھو۔نہ ہی اس پر پڑاؤ کرو۔“ (احمد )4 عبدالرحمن بن عائذ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ عام طور پر لوگوں سے نرمی اور محبت کا سلوک کرو۔اور اس وقت تک ان پر حملہ نہ کرو جب تک تم ان کو صلح کی دعوت نہ دے لو۔“ پھر فرمایا اگر تم اہل زمین کو مطیع کر کے اور مسلمان بنا کر میرے پاس لے آؤ تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بناؤ اور مردوں کو قتل کرو۔“ (علی متقی ) 5 رسول کریم صحابہ کو صبح و شام جنگ میں سورہ مومنون کی آیت 116 پڑھنے کا ارشاد فرماتے تھے جس میں ارشاد باری ہے ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ تمہیں بے مقصد پیدا کیا گیا ہے اور تمہیں ہماری طرف لوٹا کر نہیں لایا جائے گا ؟ اس کی حکمت یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان اصحاب پر خوف خدا طاری رہے اور کسی پر زیادتی کا ارتکاب نہ کریں۔وہ اپنے اصل مقصد عبودیت ورضا الہی پر نظر رکھیں۔رسول کریم نے اپنے صحابہ کو جنگ کے آداب اور مستقل ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ ” جنگ کے دوران کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو، کم سن بچے کو اور عورت کو قتل نہ کرو۔خیانت کرتے ہوئے مال غنیمت پر قبضہ نہ کرو حتی الوسع اصلاح اور احسان کا معاملہ کر واللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(ابوداؤد ) 6 اسی طرح حکم دیا کہ دوشمن پر رات سوتے میں حملہ نہ کرنا اور شب خون نہ مارنا۔( بخاری ) 7 رسول کریم کے بیان فرمودہ ان آداب جنگ کی تعمیل حضور کے زمانے میں نہایت پابندی سے کی گئی اور آپ کے بعد بھی خلفاء راشدین نے اس ضابطہ اخلاق کا بے حد خیال رکھا۔بلکہ اس پاکیزہ تعلیم کی روح مد نظر رکھتے ہوئے ،حسب حال مزید ہدایات جاری فرمائیں۔جو آج بھی اسلامی ضابطہ جنگ کا حصہ ہیں کیونکہ مسلمانوں کو رسول اللہ کے ساتھ خلفاء راشدین کی پیروی کا بھی حکم ہے۔حضرت ابو بکر نے یہ ہدایات دیں کہ جن لوگوں نے اپنی خدمات کسی بھی مذہب