اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 335 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 335

اسوہ انسان کامل 335 نی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی مہمانوں کی کثرت اور الہی برکت غزوہ خندق کے زمانہ میں بھی مسلمانوں پر تنگی اور قحط کے سخت دن تھے۔حضرت جابر اس کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم خندق کھودرہے تھے کہ ایک سخت چٹان کھدائی میں حائل ہوگئی۔صحابہ نے آکر آنحضرت سے عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ میں خود آتا ہوں۔پھر آپ تشریف لائے۔آپ کے پیٹ پر بھوک کی وجہ سے دو پتھر بندھے تھے۔مسلسل تین دن سے ہم نے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔آنحضرت نے کدال ہاتھ میں لی اور ( تین ضربوں میں ) چٹان پاش پاش کر دی۔حضرت جابر سے رسول اللہ کی بھوک اور فاقہ کی حالت دیکھی نہ گئی۔وہ حضور سے اجازت لے کر اپنے گھر گئے۔اپنی بیوی سے کہا میں نے فاقہ سے آنحضرت کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر صبر نہیں ہوسکتا، تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا ہاں کچھ جو ہیں اور گھر میں ایک بکری کا بچہ بھی پالا ہوا ہے۔حضرت جابر نے جلدی سے بکروٹا ذبح کر دیا۔بیوی نے جو پیس لئے اور گوشت ہنڈیا میں پکنے کیلئے رکھ دیا۔حضرت جابر رسول اللہ کو کھانے پر بلانے جانے لگے۔بیوی نے کہا مجھے رسول اللہ کے سامنے رسوا نہ کرنا اور زیادہ لوگ ساتھ نہ لے آنا تا کہ کھانا کم نہ ہو جائے۔ادھر حضرت جابر " آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اس دوران بیوی نے آنا وغیرہ گوندھا اور ہنڈ یا قریباً تیار ہوگئی۔حضرت جابر نے جا کر راز داری سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے گھر کچھ کھانے کا انتظام ہے آپ اور چند صحابہ تشریف لے آئیں۔رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو بھو کا چھوڑ کر کیسے چلے جاتے۔آپ نے پوچھا کھانا کتنا ہے؟ حضرت جابر نے بتا دیا کہ بس ایک بکر وٹہ اور کچھ جو ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! بہت ہے اور خوب ہے۔تم اپنی بیوی سے جا کر کہو کہ وہ میرے آنے تک نہ تو ہنڈیا اُتارے نہ تنور سے روٹی پکانی شروع کرے۔پھر آپ نے اپنے موجود تمام صحابہ سے فرمایا کہ اے اہل خندق! جابر نے تمہارے لئے دعوت کا انتظام کیا ہے چلو اس کے گھر چلیں۔“ حضرت جابر پہلے گھر آگئے ان کی بیوی کو معلوم ہوا کہ حضور خندق میں کام کرنے والے قریباً ایک ہزار صحابہ کو ہمراہ لا رہے ہیں تو جابر سے خفا ہونے لگیں۔حضرت جابر نے کہا میں نے تو تمہارے کہنے کے مطابق آنحضرت کی خدمت میں راز داری سے ہی دعوت پیش کی تھی۔آگے حضور کی مرضی ! خیر اتنی دیر میں آنحضرت تشریف لائے۔آپ نے آٹے پر برکت کی دعا پڑھ کر دم کیا، پھر ہنڈیا میں پھونک ماری اور برکت کی دعا کی۔پھر فرمایا ” اب روٹیاں پکانے والی کو بلا و وہ روٹی پکائے اور ہنڈیا چولھے سے نہ اُتارنا۔آنحضرت وہ خود کچھ روٹی توڑتے اس پر ہنڈیا میں سے گوشت نکال کر رکھتے اور اپنے صحابہ کو دیتے پھر تنور اور ہنڈیا کو ڈھانک دیتے۔اس طرح تمام آئے ہوئے مہمان سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔آنحضرت نے حضرت جابڑ کی بیوی سے فرمایا کہ اب جو کھانا بچ گیا ہے خود بھی کھاؤ اور تحفتہ دوسرے لوگوں کو بھی بھجواؤ کیونکہ لوگ فاقہ اور بھوک کا شکار ہیں۔“ ( بخاری )15