اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 334 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 334

اسوہ انسان کامل 334 نبی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی موجود تھیں۔آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ ان بکریوں کا دودھ دوہ لیا کرو۔ہم چاروں پی لیا کریں گے چنانچہ خوب گزر بسر ہونے لگی۔ایک رات مقداد شما را دودھ خود ہی پی گئے رسول کریم کی برکت سے بکریوں کو پھر دودھ اتر آیا اور انہوں نے حضور کی خدمت میں پیش کیا تو حضور نے پہلے ان کو دیا پھر ان کی درخواست پر خود پی کر باقی انہیں کو پلایا۔مقداد بعد میں بڑی محبت سے حضور کی دلنوازی کا یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔(مسلم )13 ایثار اور مہمان نوازی ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک غریب مفلوک الحال شخص آیا اور عرض کی کہ میں فاقہ سے ہوں۔آنحضرت ﷺ نے اپنے گھر سے پوچھوا بھیجا کہ کھانے کو کچھ ہوتو بھجوایا جائے۔وہ زمانہ سخت تنگی اور قحط کا تھا سب بیویوں کی طرف سے جواب آیا کہ صرف پانی گھر میں ہے کھانے کو کچھ نہیں۔رسول اللہ نے صحابہ میں اعلان فرمایا کہ کوئی ہے جو آج رات اس شخص کی مہمان نوازی کرے اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پائے۔ایثار پیشہ ابوطلحہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے خدا کے رسول ! میں اس مہمان کی ضیافت کیلئے حاضر ہوں۔چنانچہ اس مہمان کو وہ اپنے گھر لے گئے۔اپنی بیوی حضرت اُم سلیم ( جو نہایت زیرک ایثار پیشہ اور فدائی خاتون تھیں) سے کہا یہ رسول خدا کا مہمان ہے۔اس کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا اور اس کا پورا پورا اکرام کرنا۔انہوں نے کہا خدا کی قسم آج تو بمشکل بچوں کے لئے کھانا موجود ہے ہمارے اپنے کھانے کو بھی کچھ نہیں۔حضرت ابوطلحہ نے کہا کوئی بات نہیں آج بچوں کو بھوکا رکھ لیں گے۔جب وہ کھانا مانگیں تو انہیں بہلا پھسلا کر سلا دو اور مہمان کیلئے کھانا بچا رکھو۔ساتھ یہ ہدایت کی کہ جب ہم کھانا کھانے بیٹھیں تو حکمت عملی سے دیا بجھا دینا تا کہ خدا کے رسول کا مہمان سیر ہوکر کھا سکے ہم بھو کے گزارا کرلیں گے۔مہمان کی عزت کی خاطر اسکا ساتھ دینے کے لیے ہم خالی منہ ہلاتے رہیں گے۔پردہ کے حکم سے پہلے عربوں میں اہل خانہ کے ساتھ کھانے میں شرکت کو اکرام ضیف کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ میاں بیوی مہمان کے ساتھ بیٹھ تو گئے کہ اس پہلو سے بھی مہمان کے اکرام میں فرق نہ آئے مگر کھانا ایک آدمی کا تھا۔حضرت ام سلیم کھانا رکھ کر چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اُٹھیں اور اسے بجھا دیا۔پھر دونوں میاں بیوی مہمان کے ساتھ خالی منہ ہلا کر یہ ظاہر کرتے رہے کہ کھانا کھا رہے ہیں حالانکہ خالی مچا کے لیتے رہے مہمان کو خدا اور اس کے رسول کی خاطر پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اور خود بھوکے پیٹ رات بسر کی۔ایثار و قربانی اور اخلاص و فدائیت کا یہ عظیم الشان نمونہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی ان سے اتنا خوش ہوا کہ آنحضرت مہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔صبح ہوئی اور ابوطلحہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا آج رات عرش کا خدا تم دونوں میاں بیوی کے اخلاص و ایثار اور محب کا یہ نمونہ دیکھ کر خوش ہورہا تھا۔اسی قسم کے مضمون کا ذکر اس آیت قرآنی میں ہے۔وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر : 10) کہ صحابہ رسول اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے اور خود ایثار کرتے ہیں خواہ خود خالی پیٹ بھوکے ہی کیوں نہ ہوں۔( بخاری ) 14