اسوہء انسانِ کامل — Page 315
اسوہ انسان کامل 315 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاق فی سبیل اللہ اور سخاوت کے انداز بھی بے شمار تھے۔ہر چند کہ آپ دینی و قومی ضروریات کو مقدم رکھتے تھے۔تاہم ابتدائی زمانہ میں کثرت سے کمزور اور غریب لوگوں کے قبول اسلام کے باعث ان کی امداد اور حاجت روائی بھی ایک نہایت ضروری شعبہ تھا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی اور جماعتی دونوں لحاظ سے بہت توجہ دیتے تھے اور ایک بہت بڑا حصہ اموال کا اس پر خرچ ہوتا تھا۔اس زمانہ میں مہمان نوازی کے لئے کوئی علیحدہ مرکزی انتظام نہیں تھا اس لئے آنے والے مہمانوں کی اولین ذمہ داری آپ کے اہل خانہ پر ہی ہوتی تھی۔گھر یلو اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ آپ اس پر صرف فرما دیتے تھے۔آپ ہمیشہ ضرورت مند کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔لوگوں کی ضرورتوں کا خود خیال رکھتے۔سوال سے پہلے از خود مدد کرنے کی سعی فرماتے تھے۔جب بھی کوئی سوالی آپ کے در پر تا تو کبھی خالی ہاتھ واپس نہ جاتا۔آپ بطور ھبہ بھی عطا فرماتے اور بطور صدقہ بھی۔گویا امیر وغریب آپ کی عطا سے فیضیاب ہوتے۔احباب کو از خود بھی تحائف بھجواتے اور اُن کے تحائف کا بہتر بدلہ بھی عطا فرماتے تھے۔اس کے علاوہ اور مختلف حیلوں سے بھی دیتے تھے۔کبھی قرضہ لیا تو بوقت ادائیگی زیادہ دے دیا۔کبھی کسی سے کوئی چیز خریدی تو قیمت زیادہ عطا فرما دی اور کبھی چیز اور قیمت دونوں ہی بخش دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے کی یہ کیفیت آغاز جوانی سے ہی تھی۔آپ خود حالت یتیمی سے گزرے اور کمزوری کا زمانہ دیکھا تھا ، اس لئے جونہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے آپ نے حسب توفیق غرباء کی مدد اور ہمدردی کا ایک سلسلہ شروع فرما دیا۔مکہ کے ابتدائی دور میں دعویٰ نبوت سے پہلے کفار قریش کے ساتھ آپ معاہدہ حلف الفضول کے اسی لئے رکن بنے تھے تا غرباء کی حق تلفیوں کے ازالے میں معاون ہوسکیں۔مکی دور میں مالی جہاد اور حضرت خدیجہ کی گواہی شادی سے قبل حضرت خدیجہ کے اموال تجارت سے جو منافع پایا اس سے بھی کوئی جائیداد نہیں بنائی ، نہ اپنی تجارت بڑھائی بلکہ اللہ کی راہ میں غرباء پر خرچ کر دیا۔پھر حضرت خدیجہ سے شادی ہوئی انہوں نے اپنے تمام اموال اور غلام آپ کے سپرد کر دیئے۔آپ نے اپنے غلام زید بن حارثہ کو آزاد کر دیا اور اموال خدا کی راہ میں بے دریغ خرچ کئے۔چنانچہ جب پہلی وحی کے نئے تجربے پر آپ کو طبعاً گھبراہٹ ہوئی تو حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے جو کلمات کہے ان سے نہ صرف اس زمانہ میں آپ کے انفاق فی سبیل اللہ کی عادت ظاہر ہوتی ہے بلکہ خدا کی راہ میں آپ کے خرچ کے طریقے بھی کھل کر سامنے آتے ہیں۔حضرت خدیجہ نے آپ کے پاکیزہ اخلاق پر یہ بے لاگ تبصرہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا۔آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، غریبوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، جو نیکیاں مٹ چکی ہیں وہ آپ قائم کرتے ہیں، آپ مہمان نوازی کرتے اور حقیقی مصائب میں لوگوں کی امداد کرتے ہیں۔( بخاری ) 21 رض