اسوہء انسانِ کامل — Page 314
اسوہ انسان کامل 314 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا باپ کو بیٹے پر صدقہ کی تحریک فرمائی۔( بخاری ) 17 انفاق کی خاطر قناعت کی قربانی اتفاق فی سبیل اللہ کی اس پاکیزہ تعلیم پر ہر پہلو سے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ " نے عمل کر کے دکھایا۔رحمان خدا کے اس عظیم بندے میں سب سے بڑھ کر یہ شان جھلکتی تھی کہ نہ اسراف کی طرف میلان تھا نہ بخل کی طرف رجحان ، بلکہ ایک کمال شانِ اعتدال تھی۔چنانچہ گھر یلو زندگی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسب حال سادگی اور قناعت کا طریق اختیار فرماتے تھے۔یہ بھی انفاق فی سبیل اللہ کے لئے ایک قسم کی تیاری ہوتی تھی کہ خود تکلیف اٹھا کر اور قربانی کر کے بھی دینی ضروریات مقدم رکھی جائیں۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ تشریف لائے آپ کے خاندان نے کبھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوئی۔نیز انہوں نے بیان کیا کہ ہمارا پورا پورا مہینہ اس حال میں گزر جاتا تھا کہ جس میں ہم آگ نہیں جلاتے تھے۔کھجور اور پانی پر گزر بسر ہوتی تھی سوائے اس کے کہ کچھ گوشت ( بطور تحفہ ) کہیں سے آجائے۔( بخاری ) 18 انسانوں میں سب سے بڑا سخی جہاں تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کا سوال ہے۔آپ سے بڑھ کر کوئی شاہ دل اور سنی نہ تھا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں سب سنیوں سے بڑے سخی کے بارہ میں نہ بتاؤں؟ اللہ تمام سخاوت کرنے والوں سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہے۔پھر میں تمام انسانوں میں سے سب سے بڑا سخی ہوں۔“ ( بیشمی )19 یہ محض آپ کا دعوی نہیں تھا بلکہ جس نے بھی آپ کی سخاوتوں اور فیاضیوں کے جلوے دیکھے وہ یہی رائے دینے پر مجبور ہوا۔آپ کے چچا زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس ( جنہیں بہت قریب سے آپ کے احوال مشاہدہ کرنے کا موقع ملا) نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے اور آپ کی سخاوت رمضان کے مہینہ میں اپنے انتہائی عروج پر پہنچ جاتی تھی ، جب جبریل آپ سے ملاقاتیں کرتے تھے اس وقت آپ کی سخاوت اپنی شدت میں تیز ندھی سے بھی بڑھ جاتی تھی۔( بخاری ) 20 رمضان وہ برکتوں والا مہینہ ہے جس میں نیکی کا ثواب عام دنوں کی نسبت کہیں بڑھ کر ہے۔دوسرے اس ماہ میں جبریل کی ملاقاتوں کی وجہ سے رسول اللہ کی روحانی و علمی ترقیات میں اضافہ ہوتا تھا اور آپ زیادہ سے زیادہ صدقہ کرتے تھے۔