اسوہء انسانِ کامل — Page 303
303 آنحضرت سے بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل اسی طرح بعض مردوں کی یہ شکایت ملی کہ کہ وہ فَاضْرِبُوهُنَّ “ (یعنی ان کو مارو ) کی قرآنی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عورتوں کو نا واجب زدو کوب کرتے ہیں تو آپ نے مردوں کو سمجھایا اور فرمایا کہ جولوگ بیویوں پر ہاتھ اُٹھاتے ہیں وہ اچھے لوگ نہیں ہیں۔(ابو داؤد )61 خانگی امور کی اصلاح میاں بیوی کے خانگی تنازعات بھی رسول کریم کے پاس آتے رہتے تھے۔رسول کریم ذاتی دلچسپی لے کر خانگی تنازعات میں مؤثر رنگ میں نصیحت کرتے اور اصلاحی کاروائی فرماتے تھے۔صفوان بن معطل کی بیوی نبی کریم کے پاس آئی اور کہنے گی کہ میں روزہ رکھتی ہوں تو صفوان مجھے اس سے منع کرتا ہے۔نماز پڑھتی ہوں تو مارتا ہے اور خود فجر کی نماز سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھتا ہے۔حضور نے اُسے بلوا کر پوچھا تو اُس نے کہا کہ روزے رکھنے سے منع کرنے کی بات تو درست ہے۔میں نو جوان آدمی ہوں اور یہ روزہ رکھ کے بیٹھ جاتی ہے۔( جس میں ازدواجی تعلقات ممنوع ہوتے ہیں) باقی رہی مارنے کی شکایت تو مطلق نماز پڑھنے کی وجہ سے میں اسے نہیں مارتا بلکہ اصل وجہ اور ہے یہ نماز کی ہر رکعت میں دو دو سورتیں پڑھ کر اسے لمبا کر دیتی ہے۔رہی سورج نکلنے کے بعد فجر کی نماز پڑھنے کی بات تو میں سردرد کا دائگی مریض ہوں اور یہ ہماری خاندانی بیماری ہے۔نبی کریم نے فریقین کی بات سن کر یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے اور جہاں تک ہر دو رکعت میں دو سورتیں پڑھنے کا تعلق ہے تو ایک سورت پڑھنے سے بھی نماز ہو جاتی ہے، بوجہ بیماری نماز تاخیر سے پڑھنے کے بارہ میں صفوان سے فرمایا کہ جب تمہاری آنکھ کھلے نماز ضرور پڑھ لیا کرو۔(احمد )62 ایک دفعہ حضرت علی حضرت فاطمۃ الزہراء سے ناراض ہو گئے اور مسجد میں جاکر زمین پر لیٹ رہے۔رسول کریم کو پتہ چلا تو ان کے پیچھے مسجد آئے تو دیکھا کہ دیوار کے ساتھ لیٹے ہیں اور پشت پر مٹی لگی ہے۔رسول کریم مے نے کمال شفقت سے ان کی پشت سے مٹی جھاڑی اور اسی مناسبت سے ابوتراب کہہ کر انہیں پکارا جس کے معنے ہیں مٹی کا باپ اور فرمایا اٹھو۔گھر چلو یوں محبت سے ان کی ناراضگی دور کروانے کے سامان کئے۔( بخاری )63 خوشی غمی کے مواقع پر تربیتی ہدایات شادی بیاہ یا موت فوت کے مواقع بھی جذباتی اظہار کے مواقع ہوتے ہیں اور خدشہ ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر بد رسوم رواج پا جائیں۔نبی کریم اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے۔شادیوں میں اسراف نہ کرنے اور سادگی اختیار کرنے کیلئے آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ کی شادی پر بھی یہی نمونہ دیا اور اپنی متعد د شادیوں کے موقع پر حسب حالات و موقع نہایت سادگی سے ولیمہ کی تقاریب کیں۔حضرت صفیہ کا ولیمہ سفر خیبر سے واپسی پر ہوا جو کھجور اور پنیر پرمشتمل تھا۔حضرت زینب کا مثالی ولیمہ جسے لوگوں نے یا درکھا اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سادہ گوشت روٹی کھلائی تھی۔( بخاری 64)