اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 261 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 261

اسوہ انسان کامل 261 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ میں شدید زخم آئے۔(الحلبیہ (37 ہجوم تب واپس لوٹا جب آپ نے عتبہ اور شیبہ سرداران مکہ کے انگوروں کے باغ میں پناہ لی۔بد بخت قوم ثقیف سے زخمی اور خون آلود ہو کر بھی ہمارے آقا و مولیٰ کے صبر و رضا کی شان دیکھنے والی تھی۔آپ نے انگوروں کی بیلوں کے سایہ میں آکر دو رکعت نماز ادا کی اور اپنے رب سے کچھ مناجات اور آہ وزاری کی ، اس دعا سے جہاں آپ کے کرب کی انتہا کا پتہ چلتا ہے وہاں راہ مولیٰ میں آپ کے صبر اور برداشت کی معراج کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔آپ نے خدا کے حضور کس مپرسی کی حالت زار میں یوں عرض کیا:۔”اے میرے مولیٰ ! میں اپنی ضعف و ناتوانی اور قلت تد بیر کا حال تیرے سوا کس سے کہوں؟ اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے! مجھے لوگوں میں رسوا کرنے کی ہر کوشش کی گئی ہے۔تو جو کمزوروں کا رب ہے میرا بھی تو رب ہے۔تو مجھے کس کے سپرد کرنے لگا ہے؟ کیا مجھے دور دراز کے لوگوں کے حوالے کر دے گا ؟ جو مجھے تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں یا ایسے دشمن کے سپرد کرے گا جن کو تو میرے سب معاملہ پر مکمل قدرت عطا کر دے؟ (میرے مولیٰ ! ) اگر تو ناراض ہو کر میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر رہا تو پھر مجھے تیری راہ میں ان مصیبتوں کی کوئی بھی پرواہ نہیں لیکن میں تیری عافیت کا کہیں زیادہ محتاج ہوں کہ وہ اپنی تمام وسعتوں سے مجھے ڈھانپ لے۔میں تیرے پاک چہرے کے نور کا واسطہ دے کر پناہ کا طلبگار ہوں جس نے تاریکیوں کو روشن کیا ہے ، جس نے دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کر رکھا ہے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو اور تو مجھ سے ناراض ہو جائے۔میرے مولیٰ ! میں تیری رضا تلاش کرتا رہوں گا یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے اور سوائے تیرے کوئی طاقت اور قدرت کسی کو حاصل نہیں۔“ (احمد 8 38) اس دعا کی فوری قبولیت تو اسی وقت ظاہر ہوئی کہ رسول اللہ کے لئے ظاہری اور روحانی دونوں قسم کے پھلوں کا انتظام کر دیا گیا۔سردارانِ قریش عتبہ اور شیبہ کو نبی کریم کی درد ناک حالت دیکھ کر آپ پر ترس آیا۔انہوں نے اپنا عیسائی غلام آپ کی خدمت میں بھجوایا جس نے انگوروں کے تازہ خوشے پیش کئے۔رسول کریم بسم اللہ پڑھ کر انگور کھانے لگے۔نصرانی عد اس نے تعجب سے آپ کا منہ دیکھا اور کہا خدا کی قسم ! اس شہر کے لوگ تو اس طرح کی کوئی دعا نہیں پڑھتے۔رسول کریم نے فرمایا تم کس شہر کے ہو اور تمہارا دین کیا ہے؟ اس نے کہا میں نینوا کا باشندہ ہوں اور عیسائی ہوں۔آپ نے فرمایا ”اچھا! تم خدا کے نیک بندے اور نبی حضرت یونس بن مٹی کی بستی سے ہو۔اور یوں رسول کریم نے مصیبت کے وقت بھی ایک غلام کو جو غیر قوم اور غیر مذہب کا تھا پیغام حق پہنچانے کی راہ نکال لی اور اسے حقیر نہیں جانا۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا دل نرم کر دیا۔وہ یونس بن متی کا ذکر سن کر کہنے لگا کہ آپ کو اس کا کیسے علم ہے؟ آپ نے فرمایا وہ میرا بھائی اور نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں۔عد اس اسی وقت رسول اللہ کے سامنے جھک گیا اور آپ کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں چومنے لگا۔عقبہ اور شیبہ جو یہ نظارہ دیکھ رہے تھے ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ لو تمہارا غلام تو اس نے خراب کر دیا ہے۔