اسوہء انسانِ کامل — Page 256
256 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل حضرت عمر کی اپنی ایک روایت کے مطابق قبول اسلام سے پہلے ایک اور موقع پر انہوں نے رات کے وقت رسول اللہ کو خانہ کعبہ میں نماز میں قرآن پڑھتے سنا تو دل پسیج گیا۔یہ سب عوامل در اصل عمرہ کے حق میں رسول اللہ کی دعا کا نتیجہ تھے۔عمرؓ سے پہلے ان کی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید اسلام قبول کر چکے تھے مگر عمر کی جابرانہ طبع کے باعث ابھی اس کا اعلان نہیں کیا تھا۔ایک دن عمر بن خطاب گھر سے تلوار سونتے نکلے، راستہ میں اپنی قوم کے ایک شخص نعیم سے ملے جومخفی طور پر اسلام قبول کر چکا تھا۔عمر نے اسے بتایا کہ وہ محمد کے قتل کے ارادہ سے نکلے ہیں تا کہ اس نئے دین کے فتنہ کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے۔نعیم نے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تم محمد کو قتل کر دو گے تو اس کا قبیلہ تمہیں چھوڑ دے گا؟ دوسری بات یہ کہ پہلے تم اپنے گھر کی تو خبر لو تمہارا بہنوئی اور بہن مسلمان ہو چکے ہیں۔عمر سید ھے بہن کے گھر پہنچے تو تلاوت کی آواز سنائی دی۔حضرت خباب وہاں قرآن پڑھ رہے تھے جو انہیں دیکھ کر چھپ گئے۔عمر نے پوچھا کہ یہ آواز کیسی تھی؟ پھر کہا مجھے پتہ چلا ہے تم لوگ مسلمان ہو چکے ہو۔یہ کہ کر انہوں نے سعید بن زید کو پکڑ لیا۔بہن اپنے شوہر کو چھڑانے کے لئے اٹھیں تو عمرؓ نے ان کو بھی مارا اور ان کا سر پھٹ گیا۔تب دونوں نے حضرت عمرؓ سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں آپ جو چاہیں کر لیں۔عمر پہلے ہی بہن کو خون آلود و یکھ کر نادم ہو رہے تھے۔کہنے لگے اچھا جو تم پڑھ رہے تھے مجھے دکھاؤ تو سہی۔بہن نے کہا یہ پاک کلام ہے آپ پہلے نہا کر پاک صاف ہو جائیں۔اس میں حکمت یہ تھی کہ ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے۔عمرؓ نے فنسل کے بعد سورۃ طہ کی ابتدائی آیات پڑھیں تو بے اختیار کہہ اٹھے۔کتنا خوبصورت اور قابل عزت یہ کلام ہے۔حضرت خباب یہ سن کر باہر نکل آئے اور کہنے لگے کہ اے عمر! مجھے لگتا ہے کہ خدا نے آپ کو اپنے نبی کی دعا کے لئے خاص کر لیا ہے۔کل ہی میں نے حضور کو دعا کرتے سنا ہے کہ اے اللہ ! اسلام کی تائید عمرو بن ہشام یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ فرما۔پس اے عمر اللہ سے ڈرو۔عمر نے کہا کہ مجھے محمد کا پتہ دو تا کہ میں اسلام قبول کروں۔خباب نے بتایا کہ حضور صفا میں ہیں۔عمر سید ھے دارارقم پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ایک صحابی نے دروازے کی درز سے حضرت عمر کو تلوار سے مسلح دیکھا اور گھبرا کر رسول اللہ کو اطلاع کی۔ادہر حضرت حمزہ نے کہا ” سے آنے دو۔اگر اس کا ارادہ نیک ہے تو ٹھیک ورنہ اسی کی تلوار سے اسے ٹھکانے لگادیں گے۔“ رسول اللہ نے عمر کو دامن سے پکڑ کر جھٹکا دیا اور فرمایا۔عمر کیسے آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔اس پر رسول اللہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔(ابن ہشام و بخاری) 24 گشتی کے اکھاڑے میں دعوت الی اللہ رسول کریم نے ہر کس و ناکس کو پیغام حق پہنچایا، ان میں مکہ کا پہلوان رکا نہ بھی تھا۔آپ نے اُسے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ” کیا تم اللہ سے نہیں ڈرو گے اور جس پیغام کی طرف بلاتا ہوں اُسے قبول نہیں کرو گے۔“ اُس نے کہا اگر مجھے یقین ہو جائے کہ آپ کا دعوی سچا ہے تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔آپ نے فر مایا اگر میں کشتی میں