اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 255 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 255

255 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل رہے۔عبداللہ بن جدعان کی ایک لونڈی اپنے گھر میں یہ سب کچھ سن رہی تھی۔ابو جہل وہاں سے خانہ کعبہ جا کر سردارانِ قریش کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ادھر حمزہ کمان حمائل کئے شکار سے واپس لوٹے۔ان کا دستور تھا کہ شکار سے واپس آکر گھر جانے سے پہلے طواف کیا کرتے تھے۔اس دوران سردارانِ قریش سے دعا سلام کرنا بھی ان کا معمول تھا۔وہ خود معزز سرداروں میں سے تھے۔جب وہ اس لونڈی کے پاس سے گزرے اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر تشریف لے جاچکے تھے۔لونڈی کے دل پر آنحضرت کی مظلومیت کا گہرا اثر تھا جس کا اظہار اس نے سردار حمزہ سے یہ کہہ کر کیا کہ اے ابو عمارہ! آپ کے بھتیجے کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ابوالحکام نے جو اذیت پہنچائی ہے کاش آپ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں بیٹھے دیکھا تو آپ کو سخت دکھ دیا اور گالیاں دیتے ہوئے بری اور نا پسندیدہ باتیں کہیں مگر محمد خاموشی سے چلے گئے اور آگے سے کوئی جواب تک نہیں دیا۔سردار حمزہ کی طبعی غیرت نے جوش مارا۔وہ طیش میں آکر خانہ کعبہ کی مجلس میں گئے جہاں ابو جہل بیٹھا تھا اور اس کے سر پر زور سے کمان دے ماری۔اس کا سر بری طرح زخمی کر دیا اور جوش میں آکر کہا کہ کیا تم میرے بھتیجے کو گالیاں دیتے ہو؟ تمہیں پتہ ہے کہ میں بھی اس کے دین پر ہوں۔اگر طاقت ہے تو آؤ اور میرے ساتھ مقابلہ کرو۔تب ابو جہل کے قبیلہ مخزوم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے مگر ابو جہل نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ واقعی میں نے اس کے بھتیجے کوسخت بری گالیاں دی تھیں تم لوگ اسے کچھ نہ کہو۔ادھر حضرت حمزہ نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے بعد قریش نے محسوس کیا کہ اب رسول اللہ کا معاملہ مضبوط ہو گیا ہے اور حمزہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کریں گے۔چنانچہ قریش کی ایذا رسانیوں میں کچھ کمی واقع ہوگئی۔( ابن ہشام ) 22 معاندین اسلام کے لئے دعا دعوت الی اللہ کا پہلا اور آخری حربہ تو دعا ہی ہے۔آغاز اسلام میں سرداران قریش کی سخت مخالفت دیکھ کر رسول کریم کو کمال حکمت اور دانشمندی سے مکہ کے دو طاقتور اور بہادر سرداروں کے قبول اسلام کے لئے بطور خاص دعا کی طرف توجہ ہوئی تاکہ ان کے قبول اسلام سے کفر کی طاقت ٹوٹے اور اسلام مضبوط ہو۔آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! ان دو اشخاص عمرو بن ہشام اور عمر بن الخطاب میں سے کسی ایک کے ساتھ جو تجھے زیادہ پسند ہو اسلام کوعزت اور قوت نصیب فرما۔(ترمذی 23) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بہت جلد قبول کی اور حضرت عمرؓ کو قبول اسلام کی سعادت عطا ہوئی۔حضرت عمرؓ کا قبول اسلام بھی مسلمانوں کی مظلومیت کی برکت تھی۔ہجرت حبشہ مسلمانوں کے لئے شرفاء اہل مکہ کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے کا باعث ہوئی تھی۔عمر بن خطاب اگر چہ آغاز میں اسلام کے ان شدید معاندین میں سے تھے جو مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے تھے لیکن ایک قریشی گھرانے کو ہجرت حبشہ کے لئے رخت سفر باندھے دیکھ کر ان کا دل بھی بھر آیا تھا۔