اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 225 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 225

اسوہ انسان کامل 225 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول بائیں اور اس طرح اپنے آقا کو بحفاظت میثرب پہنچایا۔(حلبیہ )5 اسی سفر ہجرت کا واقعہ ہے جب حضرت ابوبکر نے ایک مشرک سراقہ کو تعاقب میں آتے دیکھا تو رو پڑے۔رسول اللہ نے وجہ پوچھی تو عرض کیا۔” اپنی جان کے خوف سے نہیں آپ کی وجہ سے روتا ہوں کہ میرے آقا کوکوئی گزند نہ پہنچے۔“ ( احمد ) 6 حضرت ابو بکر کی مزاج شناسی کرسول اور گہری محبت کا عجب عالم تھا۔جب سورۂ نصر نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح کے آنے اور فوج در فوج لوگوں کے دین اسلام میں داخل ہونے کا ذکر تھا تو رسول کریم نے صحابہ کی مجلس میں یہ آیات سنائیں۔حضرت ابو بکر رو پڑے۔صحابہ حیران تھے کہ فتح کی خوشخبری پر رونا کیسا؟ مگر حضرت ابو بکر کی بصیرت نے ان آیات سے جو مضمون اخذ کیا وہ دوسرے نہ سمجھ سکے۔حضرت ابو بکر کی فراست بھانپ گئی کہ یہ آیات جن میں رسول اللہ کے مشن کی تکمیل کا ذکر ہے آپ کی وفات کی خبر دے رہی ہیں۔اس لئے اپنے محبوب کی جدائی کے غم سے بے اختیار ہوکر رو پڑے اور اس عاشق صادق کا خوف بجا تھا۔آنحضور اس کے بعد صرف دو سال زندہ رہے۔( بخاری ) حضرت عمر کی محبت رسول اللہ نے حضرت ابو بکر کے بعد حضرت عمرؓ سے اپنی محبت کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام ہی آنحضور کی دعا کا صدقہ تھا۔رسول کریم حضرت عمر کی خداداد استعدادوں کے باعث بھی اُن سے محبت فرماتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن سے خدا کلام کرتا تھا مگر وہ نبی نہیں تھے۔میری اُمت میں بھی ایک ایسا فرد عمر ہے۔( بخاری )8 حضرت عمرؓ بھی رسول اللہ کے سچے عاشق تھے۔زہرہ بن معبد بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے۔حضور نے حضرت عمرؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔وہ فرط محبت میں کہنے لگے۔"اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں سوائے میری جان کے۔نبی کریم نے فرمایا۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہوں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔”اچھا تو خدا کی قسم آج سے آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔رسول کریم نے فرمایا اے عمر کیا آج سے؟“ گویا حضور سمجھتے تھے کہ عمر فی الواقعہ دلی طور پر اس اظہار سے پہلے ہی آپ کو جان سے عزیز تر جانتے تھے۔(احمد) حضرت عمرؓ اس محسن رسول کے ایسے دیوانے تھے کہ رسول اللہ کی وفات پر فرط غم سے یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ رسول اللہ واقعی داغ مفارقت دے گئے ہیں۔دیوانہ وار یہ اعلان کر رہے تھے کہ جس نے کہا رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں میں اسکا سرتن سے جدا کر دونگا۔یہ کیفیت در اصل حضرت عمر کے رسول اللہ سے بچے عشق اور جذباتی تعلق کی آئینہ دار ہے۔( بخاری )10