اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 7 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 7

اسوۃ انسان کامل جو وہ نہیں جانتا تھا۔7 سوانح حضرت محمد علی وحی الہی کے اس پہلے تجربہ کے بعد آپ کی گھبراہٹ طبعی بات تھی۔چنانچہ غار حرا سے سخت اضطراب کی حالت میں واپس آکر آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا۔مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو۔حضرت خدیجہ نے جب آپ سے سارا ماجرا سنا تو آپ کو تسلی دیتے ہوئے بے ساختہ یہ گواہی دی کہ اللہ تعالی آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔آپ تو صلہ رحمی کرنے والے اور سچ بولنے والے ہیں ، لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور آپ میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو دوسروں میں نہیں۔آپ مہمان نواز ہیں اور حقیقی مصائب پر دوسروں کی مددکرتے ہیں“۔( بخاری ) 11 اس کے بعد حضرت خدیجہ مزید اطمینان کے لئے آپ کو اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو شرک سے بیزار اور ایک موحد عیسائی عالم تھے۔انہوں نے حضور ﷺ کی باتیں سن کر فرمایا ”یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسی پر اترا تھا۔اے کاش ! میں اس وقت تک زندہ رہوں جب تیری قوم تجھے وطن سے نکال دے گی۔آنحضرت ﷺ نے تعجب سے پوچھا کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا ہاں کوئی رسول نہیں آیا مگر اس کی قوم نے اس کے ساتھ عداوت کی اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں پوری طاقت کے ساتھ تیری مدد کرونگا۔“ آنحضرت ﷺ نے اس حکم الہی کے بعد اپنے ملنے والوں میں توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید شروع فرما دی۔ابتدائی مسلمان پہلی وحی کے بعد سب سے پہلے بانی اسلام پر حضرت خدیجہ ایمان لے آئی تھیں۔ان کے علاوہ ایمان میں سبقت لے جانے والے بڑوں میں حضرت ابو بکر ، جوانوں میں حضرت زید اور بچوں میں حضرت علی تھے۔قریش کے معزز اور بااثر آدمی ہونے کی وجہ سے حضرت ابو بکر کا وسیع حلقہ احباب تھا۔ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں قریش کے متوسط طبقہ کے لوگ مسلمان ہونے لگے۔جن میں حضرت عثمان بن عفان ،حضرت عبدالرحمان بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت زید بن العوام ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، حضرت ابوعبیدہ بن الجراغ ، حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو سلمہ شامل تھے۔عورتوں میں حضرت خدیجہ اور ان کی اولاد کے بعد حضرت اسماء بنت ابوبکر اور حضرت فاطمہ بنت خطاب زوجہ حضرت سعید بن زید مسلمان ہوئیں۔ان کے بعد کمزور طبقہ کے لوگ حضرت عثمان بن مظعونؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعودی، حضرت بلال ، حضرت خباب ، حضرت یا سر اور حضرت سمیہ بھی ابتدائی تین چار سالوں میں ایمان لے آئے۔مگر قریش ان کو کمزور اوگ سمجھ کر ان پر کوئی خاص توجہ نہ دیتے تھے۔پہلی وحی کے بعد کچھ عرصہ تک مزید وحی کے نزول میں ایک وقفہ ہوا۔جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ مضطرب رہے۔پھر ایک دن غار حرا سے واپسی پر اسی فرشتہ نے آپ کو آواز دی تو آپ گھبرا گئے اور گھر آکر پھر فرمایا