اسوہء انسانِ کامل — Page 200
اسوہ انسان کامل 200 صلہ رحمی میں رسول کریم کا شاندار نمونہ وقت تک مقر ر ر ہے گا جب تک تم مشرکہ اپنے حسن سلوک کے اس نمونہ پر قائم رہو گے۔(احمد ) 11 حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ میری مشرکہ والدہ میرے لئے اداس ہو کر محبت کے جذبہ سے ملنے مدینہ آئیں۔میں نے نبی کریم سے پوچھا کہ کیا میں ان کے مشرک ہونے کے باوجود ان سے حسن سلوک کروں۔نبی کریم نے فرمایا کیوں نہیں آخر وہ تمہاری ماں ہے۔ضرور ان سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔“ ( بخاری )12 صلہ رحمی میں رسول کریم کا اپنا نمونہ یہی تھا۔چنانچہ حضرت خدیجہ نے پہلی وحی کے موقع پر رسول کریم کے حسن سلوک کے متعلق یہ گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر گز ضائع نہیں کر دیگا۔آپ تو صلہ رحمی کرتے اور بوجھ اٹھاتے ہیں۔(بخاری) 13 ایک شخص رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں لیکن اس کی توفیق نہیں۔آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ؟ اس نے عرض کیا والدہ ہے۔رسول اللہ نے فرما یا والدہ سے حسن سلوک کرو اگر تم یہ کر لوتو حج عمرہ اور جہاد کرنے والے ٹھہرو گے (اور اس کا ثواب پاؤ گے ) اور اگر والدہ تم سے راضی ہے تو اللہ کا تقویٰ اختیار کر واور اس سے حسن سلوک کرو۔( ھیثمی )14 رسول کریم کے حقیقی والدین تو بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔بعد میں ان کے لئے محبت اور دعا کا جوش دل میں موجود رہا۔آپ بطور خاص اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کے لئے ابواء تشریف لے گئے اور وہاں جا کر ان کی یاد میں آپ روئے اور اتنا روئے کہ اپنے ساتھیوں کو بھی رُلا دیا۔(مسلم ) 15 رضاعی رشتوں کا بھی نبی کریم نے ہمیشہ احترام کیا۔ابو الفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو جنگ حنین سے واپسی پر بھر انہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا میں اس وقت نو جوان لڑکا تھا۔ایک عورت آئی رسول اللہ نے اسے دیکھا تو اس کے لئے اپنی چادر بچھادی۔وہ اس پر بیٹھ گئی میں نے پوچھا یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ کی رضاعی والدہ ہیں۔(ابوداؤد )16 ابولہب کی لونڈی ثویبہ نے رسول کریم کو دودھ پلایا تھا۔آنحضور آپنی اس رضاعی والدہ سے صلہ رحمی کی خاطر اسے پوشاک بھیجوایا کرتے اور اس کی وفات کے بعد بھی اس کے اقارب کا حال پچھواتے۔مسطح بن اثاثہ حضرت ابوبکر کا بھانجا تھا۔وہ بھی غلط نہی میں حضرت عائشہ پر الزام لگانے والوں میں شامل ہو گیا۔حضرت ابو بکر نے اس کا امدادی وظیفہ روک دیا، جس پر قرآن کریم میں سورہ نور کی آیت : 23 اتری کہ تم میں سے اہل فضل اور وسعت رکھنے والوں کو ہرگز فقسم نہ کھانی چاہئے کہ وہ رشتہ داروں کو کچھ نہیں دیں گے بلکہ انہیں عفو اور در گذر سے کام لینا چاہئے۔“ ( بخاری ) 17 دعوی نبوت کرنے پر رسول کریم کے اکثر حجمی رشتہ داروں نے آپ کی مخالفت کی ،مگر آپ پھر بھی ان کا خیال رکھتے