اسوہء انسانِ کامل — Page 199
اسوہ انسان کامل 199 صلہ رحمی میں رسول کریم کا شاندار نمونہ (بن مانگے عطا کرنا ) پوری شان سے جلوہ گر ہوتی ہے۔اس لئے فرمایا کہ صلہ رحمی کرنے والوں کے مال اور عمر میں برکت عطا کی جاتی ہے۔نیز فرمایا کہ رحمی رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ( بخاری )3 نبی کریم سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا تیری ماں ،اس نے پھر یہی سوال دو ہرایا آپ نے فرمایا تیری ماں تیسری مرتبہ بھی آپ نے اسے یہی جواب دیا چوتھی مرتبہ اس کے سوال پر فرمایا تیرا باپ۔( بخاری )4 والدین کا تو اتنا حق ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان سے حسن سلوک کا حکم ہے۔رسول کریم سے کسی نے پوچھا کہ والدین کی موت کے بعد بھی ان کی صلہ رحمی کا کوئی حق باقی رہ جاتا ہے۔آپ نے فرمایا ”ہاں والدین کے لئے دعائیں کرنا۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے رہنا، ان کے عہد پورے کرنا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا ، اور ان کے رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنا جن کے ساتھ صرف والدین کی طرف سے کوئی رشتہ ہو۔“ ( ابوداؤد ) 5 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم جب کوئی جانور ذبح کرواتے تو فرماتے تھے خدیجہ کی سہیلیوں کو بھی بھجواؤ۔ایک دفعہ میں نے اس کا سبب پوچھا تو فرمایا کہ مجھے خدیجہ کی محبت عطا کی گئی ہے۔( مسلم ) 6 مستحق رحمی رشتہ داروں کو صدقہ دینا زیادہ اجر کا موجب ہے۔رسول کریم نے فرمایا کہ مسکین کو صدقہ دینا ایک نیکی ہے اور مستحق رحمی رشتہ دار کو صدقہ دینا دوہری نیکی ہے۔“ ( ترمذی )7 ایک دفعہ ام المؤمنین حضرت میمونہ نے ایک لونڈی آزاد کی۔رسول کریم کو جب انہوں نے اس بارہ میں بتایا تو آپ نے فر مایا اگر تم اپنے نہال کو ( جو مستحق تھے ) یہ لونڈی دے دیتیں تو تیرے لئے بہت زیادہ اجر کا موجب ہوتا۔(ابوداؤد ) 8 ایک شخص نے نبی کریم سے عرض کیا کہ مجھ سے ایک بڑا گناہ سرزد ہوا ہے۔کیا میری توبہ کی بھی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا ” کیا تمہاری ماں زندہ ہے اس نے کہا نہیں فرمایا ” تمہاری خالہ ہے؟ عرض کیا جی ہاں۔فرمایا پھر اس سے حسن سلوک کرو۔یہی عمل تمہارے لئے گناہوں سے معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔“ (ترندی) 9 رسول کریم نے صلہ رحمی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ” صلہ رحمی یہ نہیں کہ رشتہ داروں کے حسن سلوک کا بدلہ دیا جائے۔اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتہ توڑنے والے سے جوڑنے کی کوشش کرے۔( بخاری )10 ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ توڑتے ہیں۔میں احسان کرتا ہوں وہ بدسلوکی کرتے ہیں۔میرے نرمی اور حلم کے سلوک کا جواب وہ زیادتی اور جہالت سے دیتے ہیں۔نبی کریم نے فرمایا اگر وہ ایسا ہی کرتے ہیں جیسا تم نے بیان کیا تو تم گویا ان کے منہ پر خاک ڈال رہے ہو یعنی ان پر احسان کر کے انہیں شرمسار کر رہے ہو۔) اور اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار فرشتہ اس