اسوہء انسانِ کامل — Page 190
اسوۃ انسان کامل 190 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت کر دیں تو ان کے سودے میں برکت ڈالی جائے گی اور اگر وہ کچھ چھپائیں اور جھوٹ سے کام لیں گے تو ان کے سودے کی برکت مٹادی جائے گی۔( بخاری ) 29 اس طرح آپ نے فرمایا کہ نا واجب قسم کھا کر سودا فروخت کرنے والوں کا سودا تو فروخت ہو جاتا ہے۔مگر یہ قسم برکت کو زائل کر دیتی ہے۔(بخاری) 30 رسول اللہ نے اپنے ماننے والوں کو تجارت میں بھی احسان کرنے کی اعلی تعلیم دی کہ جھکتے ہوئے ترازو کے ساتھ تول کر وزن کیا کریں اور یوں آپ نے خریدار کو نقصان کے خدشہ کی بجائے فائدہ پہنچانے کے رجحان کی طرف توجہ دلائی اور خود اس پر عمل کر کے دکھایا۔حضرت سویڈ بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے ریشم مکہ لائے۔رسول کریم ہمارے پاس تشریف لائے اور کچھ قیصوں کا سودا کیا۔وہاں ایک شخص قیمت تول کر وصول کر رہا تھا۔آنحضرت نے اسے فرمایا کہ جھکتے ہوئے ترازو سے تول کرو۔(ابوداؤد )31 رسول کریم نے ایسے تاجر کے حق میں جو تجارت میں سہولت پیدا کرتا ہے یہ دائمی دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم فرمائے جو خرید و فروخت اور لین دین میں آسانی اور سہولت پیدا کرتا ہے۔( بخاری )32 آپ نے معاشرہ میں تاجروں کا ایک احترام قائم کیا اور اجر پر علاقومی معیشیت پر حملہ مجھ خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم تاجروں پر بھی حملہ نہیں کرتے تھے۔(بیشمی )33 آنحضرت نے اپنے مانے والوں کو تجارت میں کامیابی کے گر بھی بتائے۔آپ علی الصبح کام کا آغاز کرنا پسند فرماتے تھے۔کوئی مہم بھیجنی ہوتی یا کوئی اور کام ہوتا تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ میری امت کے صبح کے کام میں برکت ڈال۔نیز فرماتے کہ صبح کا سونا رزق میں روک بن جاتا ہے۔(بیشمی )34 ایک شخص صحر نامی تاجر تھا وہ ہمیشہ اپنے تجارتی قافلے صبح صبح روانہ کرتا تھا۔اس طرح اس نے بہت فائدہ اٹھایا۔( ترمذی )35 حضرت عبد اللہ بن ابی ربیعہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے مجھ سے چالیس ہزار قرض لیا۔پھر جب آپ کے پاس مال آیا تو مجھے واپس ادا کیا اور فرمایا اللہتعالی تمہارے گھر بار اور مال میں برکت دے۔قرض کا بدلہ شکر یہ اور ادائیگی ہے۔(نسائی) 36 رسول اللہ کو ایک شخص کے بارہ میں پتہ چلا کہ سادگی کی وجہ سے تجارت میں دھو کہ کھا جاتا ہے آپ نے اسے سودا کرنے سے روکنا چاہا تو اس نے عرض کیا کہ تجارت کے بغیر میرا گزارہ نہیں۔آپ نے فرمایا اگر تم تجارت کے بغیر نہیں رہ سکتے تو جب تم سودا کر د یہ کہا کر دیا پھر کھول کر بیان کر دیا کرو کہ یہ چیز ہے دیکھو بھئی کوئی دھوکا یا بددیانتی نہیں ہوگی۔(ابو داؤد ) 37 تجارت میں اصولی رہنمائی رسول کریم نے تاجر اور خریدار کے مابین پیدا ہونے والے ممکنہ جھگڑوں کا خیال رکھتے ہوئے ان کے اصولی فیصلے فرما دیئے کہ اگر بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے تو فروخت کرنے والے کی قیمت قبول ہوگی اور خریدار کو اختیار ہوگا