اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 172 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 172

اسوہ انسان کامل 172 رسول امین کی امانت و دیانت شخص سے بچایا اور سچائی، امانت کی ادائیگی صلہ رحمی اور ہمسائے سے حسن سلوک کی تعلیم دی۔‘ (احمد ) 3 قریش مکہ نبی کریم کے خون کے پیاسے اور آپ کے قتل کے درپے تھے۔مگر حضور گو ہجرت مدینہ کے وقت ان کی امانتوں کی واپسی کی فکر تھی۔چنانچہ مکہ چھوڑتے ہوئے اپنے چازاد حضرت علیؓ کو ان خطر ناک حالات کے باوجود پیچھے چھوڑا کہ وہ امانتیں ادا کر کے مدینہ آئیں۔(اسد الغابة )) رسول کریم کے دل میں امانت کا جس قدر گہرا احساس تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ ایک نے آپ سے پوچھا کہ اگر کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اس کا کیا کیا جائے؟ نبی کریم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کی نشانیاں بتا کر اعلان کرتے رہو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے لوٹا دو۔وہ کہنے لگا اگر کوئی گمشدہ اونٹ مل جائے تو اس کا کیا کریں؟ نبی کریم بہت ناراض ہوئے۔چہرہ کا رنگ سرخ ہو گیا اور فرمانے لگے تمہیں اس سے کیا ؟ اس اونٹ کے پاؤں ساتھ ہیں وہ درخت چر کر اور پانی پی کر زندہ رہ سکتا ہے۔تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ خود اس کا مالک اُسے پالے۔(بخاری)5 حفاظت امانت میں نبی کریم کا اپنا یہ حال تھا کہ فرماتے تھے میں بسا اوقات اپنے گھر میں بستر پر کوئی کھجور پڑی ہوئی پاتا ہوں۔کھانے کی خواہش بھی ہوتی ہے اور میں وہ کھجور اٹھ کر کھانا چاہتا ہوں مگر پھر خیال آتا ہے کہ صدقہ کی کھجور نہ ہوتب اسے وہیں رکھ چھوڑتا ہوں۔( بخاری ) ایک دفعہ گھر میں کھجور کے ایک ڈھیر میں سے کم سن حضرت امام حسین یا حسن نے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی۔نبی کریم نے فور اوہ کھجور بچے کے منہ سے اگلوادی۔کیونکہ وہ صدقہ کا مال تھا۔اور مسلمانوں کی امانت تھی۔آپ نے بچے سے فرمایا کہ ہم آلِ رسول تصدقہ نہیں کھاتے اور بچے نے ٹھو کر کے وہ کھجور پھینک دی۔(بخاری) 7 غزوہ خیبر کے موقع پر یہود شکست کے بعد پسپا ہوئے۔مسلمانوں کو طویل محاصرہ کے بعد فتح عطا ہوئی۔بعض مسلمانوں نے جو کئی دنوں سے فاقہ سے تھے یہود کے مال مویشی پر غنیمت کے طور پر قبضہ کر کے کچھ جانور ذبح کئے اور ان کا گوشت پکنے کے لئے آگ پر چڑھا دیا۔نبی کریم کو خبر ہوئی تو رسول کریم نے اسے سخت ناپسند فرمایا کہ مال غنیمت میں باضابطہ تقسیم سے پہلے یوں تصرف کیوں کیا گیا اور اسے آپ نے خیانت پر محمول فرمایا۔آپ نے صحابہ کو امانت کا سبق دینے کے لئے گوشت سے بھرے وہ سب دیگچے اور ہنڈیاں الٹوا دیں پھر صحابہ کے مابین خود جانور تقسیم فرمائے اور ہر دس آدمیوں کو ایک بکری دی گئی۔دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اموال پر زبر دستی قبضہ جائز نہیں۔( احمد ) 8 ایک دفعہ رسول کریم نماز پڑھانے کے بعد خلاف معمول تیزی سے گھر گئے اور ایک سونے کی ڈلی لے کر واپس آئے اورفرمایا کہ کچھ سونا آیا تھا سب تقسیم ہو گیا یہ سونے کی ڈلی بچ گئی تھی۔میں جلدی سے اسے لے آیا ہوں کہ قومی مال میں سے