اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 171 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 171

اسوہ انسان کامل 171 رسول امین کی امانت و دیانت ” رسول امین “ کی امانت و دیانت اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو۔(النساء:59) یہ ہے رسول اللہ کی شریعت میں قیام امانت کی بنیادی تعلیم۔دنیا میں سب سے زیادہ امانت دار خدا کے نبی اور رسول ہوتے ہیں جو خدا کا پیغام بلاکم وکاست اس کی مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔اس لئے قرآن شریف میں کئی انبیاء کا یہ دعوئی مذکور ہے کہ ”میں ایک امانت دار رسول ہو کر آیا ہوں۔مگر ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان یہ ہے کہ عرش کے خدا نے آپ کے ” مین ہونے کی گواہی دی۔فرمایا مُطَاع ثُمَّ آمِين - (التکویر : 22) کہ یہ نبی ایسا ہے جس کی پیروی کی جائے اور امانت دار ہے۔آپ ہی وہ انسان کامل ہیں جنہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھایا جو آسمان وزمین اور پہاڑ بھی نہ اُٹھا سکے۔(الاحزاب : 73) آسمان با رامانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند پس رسول کریم ہی ہیں جنہوں نے امانت کے حق ادا کر دکھائے۔آپ کے ماننے والوں کو بھی یہ تعلیم دی گئی کہ وہ مومن فلاح پاگئے جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔“ (المؤمنون : 9) رسول کریم نے فرمایا ”جس کی امانت نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔“ (طبرانی) 1 امانت و دیانت کی بنیاد نیک نیتی دلی سچائی اور راستبازی ہے۔رسول کریم میں یہ وصف بھی خوب نمایاں تھا۔آپ اہل مکہ میں اس خوبی میں ایسے ممتاز تھے کہ سب آپ کو ”صدوق وامین“ کے لقب سے یاد کرتے تھے اور اپنی امانتیں آپ کے پاس بے خوف و خطر رکھتے تھے۔ایمان کا امانت سے گہرا تعلق ہے رسول کریم کی تعلیم کا خاصہ بھی یہی تھا چنانچہ جب ہر قل نے ابوسفیان سے پوچھا کہ وہ مدعی نبوت تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے۔تو ابو سفیان نے بھی گواہی دی کہ وہ نماز ، سچائی، پاکدامنی ، ایفائے عہد اور امانت ادا کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔اس پر ہر قل بے اختیار کہ اُٹھا یہ تو نبی کی صفات ہیں۔“ ( مسلم )2 نجاشی شاہ حبشہ کے دربار میں حضرت جعفر طیار نے رسول اللہ اور آپ کے دین کا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ ”اے بادشاہ! ہم ایک جاہل قوم تھے۔بتوں کے پجاری تھے۔مردار کھاتے اور بدکاری کے مرتکب ہوتے تھے۔قطع رحمی ہمارا شیوہ تھا اور ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے۔طاقتور کمزور کا حق کھا جاتا تھا تب خدا نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کی سچائی امانت اور پاکدامنی کے ہم گواہ ہیں۔اس نے ہمیں خدا کی تو حید اور عبادت کی طرف بلایا اور بت پرستی