اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 126 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 126

اسوہ انسان کامل 126 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز نماز کے دوران اس گھڑی کی توقع کی جاسکتی ہے۔(ابو داؤد ) 6 5۔رمضان المبارک دعاؤں کا خاص مہینہ ہے۔بالخصوص اس کے آخری عشرہ میں آنحضرت کی سنت سے اعتکاف کے خاص مجاہدے کے ساتھ دعائیں کرنا ثابت ہے۔( بخاری )7 رسول اللہ نے فرمایا روزہ دار کے لئے افطاری کا وقت قبولیت دعا کا ایک خاص موقع ہوتا ہے۔جس وقت اس کی دعا رڈ نہیں کی جاتی۔( ترمذی )8 6۔رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلتہ القدر کی رات خاص طور پر قبولیت دعا کے اوقات میں سے ہے۔( بخاری )9 7۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب بھی نیک لوگ اللہ تعالی کا ذکر کرنے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور ان پر رحمت و سکینت کا نزول ہوتا ہے اور ان کو مغفرت عطا ہوتی ہے۔( بخاری ) 10 8۔بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہارانِ رحمت کے نزول کا وقت بھی قبولیت دعا کا خاص وقت ہوتا ہے۔(ابن ماجہ ) 11 9۔جن کیفیات میں دعا بطور خاص قبول ہوتی ہے۔ان میں ایک وہ حالت ہے جب نماز میں توجہ اور خشوع حاصل ہو۔حدیث میں آتا ہے جب سورۃ فاتحہ کی دعا کے بعد ملائکہ کی آمین سے کسی کی آمین کی موافقت ہو جائے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔( بخاری )12 10۔سجدے میں دعاؤں کا خاص موقع ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان حالت سجدہ میں اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے۔پس تم اس وقت کثرت سے دعائیں کیا کرو۔(مسلم) 13 11۔مظلوم کی دعا بھی خاص قبولیت کے لائق ہے۔آنحضرت ﷺ نے جن تین دعاؤں کی خاص قبولیت کا ذکر فرمایا ان میں ایک مظلوم کی دعا ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچو۔کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔( بخاری )14 12۔ایسے شخص کے لئے خاص توجہ اور جوش سے دعا کرنا جو پاس موجود نہ ہو خاص قبولیت کا موقع ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ سرعت کے ساتھ قبول ہونے والی دعا اس شخص کی دعا ہے جو اپنے کسی غیر حاضر بھائی کے لئے دعا کرتا ہے۔(مسلم )15 13۔دعا کرنے والے کی حالت بھی قبولیت دعا میں ممد و معاون ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے اللہ سے اس کے حضور، ہتھیلیاں پھیلا کر سوالی بن کر دعا مانگا کرو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو ہاتھ منہ پر پھیر لو۔اسی طرح فرمایا کہ تمہارا رب بہت ہی کریم اور حیادار ہے۔جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے تو اس کو اس بات سے شرم