اسوہء انسانِ کامل — Page 110
110 اسوہ انسان کامل ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول ہمارے رب تیرا چہرہ سب چہروں سے زیادہ قابل عزت ہے اور تیری وجاہت تمام وجاہتوں سے بڑھ کر ہے۔تیری عطا تمام عطاؤں سے افضل اور شیریں ہے۔اے ہمارے رب ! جب تیری اطاعت کی جاتی ہے تو تو قدردانی کرتا ہے اور تیری نافرمانی ہو تو بھی تیری بخشش میں فرق نہیں آتا۔تو ہی ہے جو مجبور اور لاچار کی دعا سنتا اور تکلیف دور کرتا ہے، بیمار کو صحت عطا فر ما تا گناہ بخشا اور توبہ قبول کرتا ہے۔کوئی نہیں جو تیری نعمتوں کا بدلہ اتار سکے اور تیری تعریف تک کسی مدحت گر کی زبان رسائی نہیں پاسکتی۔( شوکانی ) 26 اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ کی حمد وستائش کے ادا کئے ہوئے یہ نغمے ایسے پسند آئے کہ اس نے فیصلہ فرمایا کہ قیامت کے روز جب نفسانفسی کا عالم ہوگا اور ہر شخص کسی پناہ کی تلاش میں ہو گا تو رسول اللہ کو مقام محمود یعنی حمد باری کے انتہائی مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے حمد کا جھنڈا عطا کیا جائے گا۔(ترمذی) 27 آپ کی صفت احمد کی شان اس رنگ میں ظاہر ہوگی کہ آپ پر حمد کے نئے مضامین کھولے جائیں گے اور خدا کے لئے تعریفی کلمات سکھائے جائیں گے۔پھر آپ سجدہ ریز ہو کر وہ حمد باری بجالائیں گے جسکے جواب میں آپ کو یہ انعام ملے گا کہ اے محمد ! آج جو مانگیں گے آپ کو عطا کیا جائیگا۔تب آپ اپنی امت کی شفاعت کی دعا کریں گے۔اور یہ حمدالہی کی ایک عظیم الشان برکت ہے جو آپ کو نصیب ہوگی۔( بخاری ) 28 حمد باری کے حریص رسول اللہ تو اپنے رب کی حمد کے حریص تھے۔اللہ کی حمد اور شکر کے ایسے اعلیٰ ذوق اور توفیق کے بعد پھر بھی اگر کسی کو حمد باری کرتے ہوئے سن لیتے تو اس پر رشک کرتے۔(احمد ) 29 مشرک شاعر امیہ بن صلت کا حمد باری پر مشتمل ایک شعر جب آپ نے سنا تو بہت پسند کیا۔فرمانے لگے امیہ کا شعر تو ایمان لے آیا مگر خود اسکو ایمان کی توفیق نہ ملی۔دل کا فر ہی رہا۔شعر یہ تھا:۔لَكَ الْحَمْدُ وَالْنَّعْمَاءُ وَالْفَضْلُ رَبَّنَا فَلا شَيْئَ أَعْلَىٰ مِنْكَ حَمُدًا وَأَمْجَدًا یعنی اے ہمارے رب ! سب تعریفیں تیرے لئے ہیں ، احسان اور فضل بھی تیرے ہیں کوئی چیز حد اور بزرگی سے تجھ سے بڑھ کر نہیں۔(کنز ) 30 لبید عرب کا مشہور شاعر تھا جس کا بلند پایہ کلام خانہ کعبہ میں لٹکا یا گیا تھا۔مگر رسول اللہ کو اس کے سارے کلام سے جو شعر پسند آیا وہ اللہ کی عظمت کے بارہ میں ہے۔آپ نے فرمایا کہ سب سے سچی بات جو لبید نے کہی وہ اسکے شعر کا یہ مصرع ہے۔"