اسوہء انسانِ کامل — Page 109
109 اسوہ انسان کامل ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول میرے پاس جبریل آئے تھے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ "جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر اپنی رحمتیں نازل کرونگا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔“ یہ سن کر میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالایا ہوں۔( احمد ) 22 اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی مکہ کی فتح کے موقع پر آپ اپنی اونٹنی پر بیٹھے تھے اور سر جھک کر پالان کو چھو رہا تھا۔( ابن ہشام ) 23 آپ سجدہ تشکر بجالاتے ہوئے یہ دعا پڑھ رہے تھے۔سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِی۔اے اللہ تو پاک ہے اپنی حمد اور تعریف کے ساتھ۔اے اللہ مجھے بخش دے۔شکر کے نئے گوشے نبی کریم ﷺ کے شکر ادا کرنے کا ایک لطیف پہلو یہ ہے کہ آپ شکر کے نئے گوشے تلاش کرتے تھے محض نعمتوں اور احسانوں اور کامیابیوں پر ہی آپ اللہ کا شکر نہیں کرتے تھے بلکہ گردش زمانہ اور مصائب سے محفوظ رہنے پر بھی اللہ کی حمد بجالاتے تھے۔ہر مصیبت زدہ آپ کو اس شکر کی یاد دلاتا تھا۔چنانچہ کسی معذور یا مصیبت زدہ کو دیکھ کر جہاں انسانیت کے ناطہ سے آپ کے دل میں اس کے لئے درد پیدا ہوتا تھا وہاں آپ اللہ کا شکر بھی کرتے تھے کہ اس خدا کی تعریف ہے جس نے ہمیں اس مصیبت سے بچا کر صحت و تندرستی عطا کی اور اپنی بیشتر مخلوق پر فضیلت عطا فرمائی۔(ترندی) 24 رسول کریم ﷺ کا حمد باری کے نئے اور نرالے انداز ڈھونڈ نکالنے کا ایک واقعہ ام المؤمنین حضرت جویریہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت حضور میرے پاس سے گئے تو میں اپنے مصلے پر تھی۔دن چڑھے واپس لوٹے تو بھی مجھے مصلے پر پایا اور پوچھا کہ تم صبح سے اس حال میں یہاں بیٹھی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا میں نے اس کے بعد صرف چار کلمات تین مرتبہ دہرائے ہیں۔اگر ان کا موازنہ تمہارے اس سارے وقت کے ذکر و تسبیح سے کیا جائے تو وہ کلے بھاری ہوں اور وہ یہ کلمے ہیں۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ - اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ اُس قدر جس قدر اُس کی مخلوق ہے۔اللہ پاک ہے اُس قدر جس قدر اُس کی ذات یہ بات پسند کرتی ہے۔اللہ پاک ہے اُس قدر جس قدر اس کے عرش کا وزن ہے ( یعنی بے انتہا )۔اللہ پاک ہے اُس قدر جس قدر اس کے کلمات کی روشنائی ہے۔(مسلم) 25 اپنی ایک مناجات میں آپ اپنے مولیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں۔تیرا نور کامل ہے تو نے ہی ہدایت فرمائی سب تعریف تیرے لئے ہے، تیرا حلم عظیم ہے۔تو نے ہی بخشش عطا کی پس کامل حمد تجھے ہی حاصل ہے۔تیرے ہاتھ فراخ ہیں۔تو نے ہی سب عطا کیا پس کامل حمد تجھے ہی حاصل ہے۔اے