اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 87
آزادی صحافت کیا چیز ہے، کیا نہیں وہ ایک الگ معاملہ ہے۔لیکن بہر حال وہ اس چیز سے انکاری ہیں اور یہ اخبار کہہ رہا ہے کہ نہیں حکومت اس میں شامل ہے۔تو اس خبر کے خلاف تو ڈنمارک کی حکومت بھی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔آج کل جبکہ مسلمان دنیا میں ڈنمارک کے خلاف آگ بھڑ کی ہوئی ہے اس اخبار نے ایک من گھڑت خبر شائع کر کے ان کے حوالے سے شائع کی ہے یہ تو مزید اس آگ کو تیل دینے والی بات ہے، ہوا دینے والی بات ہے۔ہم نے جو ان سے رابطے کئے ہیں ڈنمارک کی اعلیٰ سیکیورٹی ایجنسی کے افسر نے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے، تردید کی ہے کہ بالکل کبھی اس طرح نہیں ہوا اور نہ کوئی ہمارے پاس ایسی خبر ہے۔بہر حال وہ کہتے ہیں ہم مزید تحقیق کریں گے اس سے مزید باتیں کھل جائیں گی۔پہلے انہوں نے اخبار میں یہ خبر لکھی کہ اس کی ویڈیو ٹیپ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے جو اپنے رابطے کئے تو اب یہ کہنے لگے ہیں کہ نہیں ویڈ یوٹیپ نہیں آڈیوٹیپ ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔یہ اپنے بیان بدلتے رہیں گے۔اور یہی پاکستانی صحافت کا یا اس صحافت کا جس پر پاکستانی اثر ہے، حال ہے۔لیکن بہر حال میں یہ بتا دوں کہ بات اب یہاں اس طرح ختم نہیں ہوگی۔ہم پر یہ جو اتنا گھناؤنا الزام لگایا ہے اور ان حالات میں احمدیوں کے خلاف جو سازش کی گئی ہے ہم اس کو جہاں تک یہاں کا قانون ہمیں اجازت دیتا ہے انشاء اللہ انجام تک لے کر جائیں گے تاکہ مسلمانوں کو ، کم از کم ان مسلمانوں کو جو شریف فطرت لوگ ہیں، ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کے اخلاقی معیار کا پتہ لگ سکے۔ہم پر تو ہمیشہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا گھناؤنے الزام لگائے جاتے رہے ہیں لیکن ہم ہمیشہ صبر کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد، اس تعلیم کو سامنے رکھتے رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : 87