اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 82

کا صلى الله آنحضرت علی عظیم الشان مقام حضرت مسیح موعود کی نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ : دو وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں بھی نہیں تھا ، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔( نہ زمینی چیز میں تھا اور نہ آسمان میں تھا۔) ” صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سیدالانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں“۔(ان ماننے والوں کو جتنا جتنا کسی کا ایمان تھا اس کے مطابق دیا گیا۔” اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے“۔( کہ تمام جو انسان کے حصے ہیں عقل ہے، علم ہے اور دوسرے حواس ہیں ان کی جو اعلی طاقت ہے، اعلیٰ معیار ہے وہ انسان کامل کو ملا۔) ” اور پھر انسان کامل برطبق آیت إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الَّا مَنتِ إِلَى أَهْلِهَا )۔( یعنی اس انسان کامل نے اس آیت کے مطابق کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپر د کرو۔” اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ، ہمارے مولی ، ہمارے ہادی نبی ا۔سورة النساء: آیت 59 82