اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 81

شریعت لے آئے اور مرزا غلام احمد کو بالا سمجھتے ہیں۔) ” یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے۔جو الفاظ میری کتاب میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں۔بلکہ منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات الہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے“۔( یعنی اس سے بولتا ہے۔) اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے اس پر نبی کا لفظ بولا جاتا ہے“۔(جس سے بھی زیادہ تر اللہ تعالیٰ بولے گا ، کلام کرے گا اس پر نبی کا لفظ بولا دو جاتا ہے )۔اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے۔یہ معنی نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے“۔( یہ الزم ہم پر لگا رہے ہیں )۔بلکہ یہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں“۔(الحكم۔10/ جنوری 1904ء۔صفحہ2) پس جب دعویٰ کرنے والا دوٹوک الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ میں سب کچھ اس سے حاصل کر رہا ہوں اور اس کے بغیر کچھ بھی مل نہیں سکتا۔اور اس کے ماننے والے بھی اس یقین پر قائم ہیں کہ یہ آنحضرت ﷺ کا غلام صادق ہے تو پھر افتراء اور جھوٹ پر مبنی باتیں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں بے چینی پیدا کی جائے۔اور ایسے لوگ ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں۔فتنہ پیدا کرنے کے علاوہ یہ شیطانی قوتوں کو (شیطان تو ہر وقت ساتھ لگا ہوا ہے) حسد کی آگ ان کو جلاتی رہتی ہے۔یہ جماعت کی ترقی دیکھ نہیں سکتے ان کی آنکھوں میں جماعت کی ترقی کھنکتی ہے۔اور چاہے یہ جتنی مرضی گھٹیا حرکتیں کر لیں پہلے بھی یہ کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی شاید کرتے رہیں گے۔اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے، شیطان نے تو قائم رہنا ہے یہ ترقی ان کی گھٹیا حرکتوں سے رکنے والی نہیں ہے۔انشاءاللہ۔81