اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 76

حال تھا کہ حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ کر آپ کی آنکھیں آنسو بہایا کرتی تھیں۔وہ شعر یہ ہے کہ كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِكْ فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ (دیوان حسان بن ثابت) تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا جو تیرے وفات پا جانے کے بعد اندھی ہوگئی۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے، مجھے تو صرف تیری موت کا خوف تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ کاش یہ شعر میں نے کہا ہوتا۔تو ایسے شخص کے متعلق کہنا کہ نعوذ باللہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھتا ہے یا اس کے ماننے والے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مقام دیتے ہیں۔بہت گھناؤنا الزام ہے۔ہمیں تو قدم قدم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہونے کے نظارے آپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہو ا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے (قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد 20۔صفحه 456) تو جو اپنا سب کچھ اس نور پر فدا کر رہا ہو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اب نہیں رہا اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مقام زیادہ اونچا ہو گیا ہے اور احمدیوں کے نزدیک حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام آخری نبی ہیں اور پھر یہ کہ ہم نے ان کو یہ کہہ دیا کہ ٹھیک ہے یہ ہمارا عقیدہ ہے آپ آخری نبی ہیں اب ہم اخبار کو کھلی چھٹی دیتے ہیں کہ نعوذ باللہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ 76