اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 50

جاتے ہیں، ان کو غصے اور فرقہ واریت میں سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کرنا ہے۔دوسرے بدقسمتی سے جو منافقت کرنے والے ہیں وہ بھی دشمن سے مل جاتے ہیں جس سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے اور ان کو سوچنے کی طرف آنے ہی نہیں دیتا۔بہر حال یہ جونئی صورتحال عراق میں پیدا ہوئی ہے یہ ملک کو سول وار (Civil War) کی طرف لے جا رہی ہے۔آج کل تو تقریباً شروع ہے۔اور اب وہاں پہ لیڈروں کو بڑی مشکل پیش آ رہی ہے کہ یہ صورتحال اب سنبھالی نہیں جائے گی۔مسلمان سے مسلمان کے لڑنے کی یہ صورتحال افغانستان میں بھی ہے پاکستان میں بھی ہے، ہر فرقہ دوسرے فرقے کے بارے میں پر تشد د فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، مذہب کے نام پر آپس میں ایک دوسرے کو مار رہے ہوتے ہیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ (سورة النساء: آیت 94) یعنی جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہوگی اور وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ اس سے ناراض ہو گا اور اس کو اپنی جناب سے دور کر دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔مسلمانوں کے انتشار اور کمزوری کی اصل وجہ آنحضرت ﷺ کی نافرمانی اور مسیح و مہدی کا انکار ہے تو دیکھیں ، اب یہ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔فتنہ پیدا کرنے والے، بھڑ کانے والے ان لیڈروں کے کہنے پر جن میں اکثریت مذہبی لیڈروں کی ہے، یہ سب فتنے اُن سے پیدا ہورہے ہیں۔مار دھاڑ ہو رہی ہے قتل و غارت ہو رہی ہے کہ قتل کرو تو ثواب کماؤ اور جنت کے وارث بنو گے۔جبکہ اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال رہا ہے اور لعنت بھیج رہا ہے۔50