اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 40

پوری ہورہی ہیں۔اگر میں نہیں تو کوئی دوسرا آیا ہوا ہے تو دکھاؤ۔کیونکہ وقت بہر حال تقاضا کر رہا ہے۔لیکن یہ لوگ دکھا تو نہیں سکتے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی سچے دعوے دار ہیں کیونکہ زمینی اور آسمانی تائیدات آپ کے حق میں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا معیار نبوت آپ کی تائید کر رہا ہے۔خود کچھ لوگ ماضی میں بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ آپ پاک صاف شخصیت کے مالک تھے۔آپ کا ماضی بھی پاک تھا، آپ کی جوانی بھی پاک تھی۔علمی بھی تھے اور اسلام کی خدمت بھی آپ سے زیادہ کسی نے نہیں کی۔یہ غیروں نے بھی تسلیم کیا۔پھر سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اگر عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔کیونکہ کسی کو مانے کی توفیق بھی اللہ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اب بتلاویں اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے۔کیا کوئی الہامی دعاوی کے ساتھ تمام مخالفوں کے مقابل پر ایسا کھڑا ہوا جیسا کہ یہ عاجز کھڑا ہوا۔تَفَكَّرُوْا وَتَنَدَّمُوا وَاتَّقُوا اللهَ وَلَا تَغْلُوا (یعنی غور کرو، کچھ شرم کرو، اللہ سے ڈرو کیوں بے حیائیوں میں آگے بڑھ رہے ہو۔اور اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوی میں غلطی پر ہے تو آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے انہیں دنوں میں آسمان سے اتر آوے کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں، مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعوی کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصور ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آوے تا میں ملزم ٹھہر سکوں۔( یہ اس وقت آپ نے ساروں کو پینج دیا تھا۔) '' آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دعا کریں کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اترتے دکھائی دیں۔اگر آپ حق پر ہیں تو یہ دعا قبول ہو جائے گی کیونکہ اہل حق کی دعا مبطلین کے مقابل پر قبول ہو جایا کرتی 40