اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 39

پہلے جس طرح معتین رنگ میں پیشگوئی کی تھی اور ہمیں بتایا تھا اس طرح معتین طور پر اس زمانے میں بھی جبکہ سائنس نے ترقی کر لی ہے اتنے رستے بلکہ قریب کے رستے کی بھی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ رمضان کا مہینہ ہو گا فلاں تاریخ کو سورج کو گرہن لگے گا اور فلاں تاریخ کو چاند کو گرہن لگے گا۔حدیث میں آتا ہے۔إِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ تَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ (سنن دار قطني كتاب العيدين باب صفة صلوة الخسوف) یعنی ہمارے مہدی کی صداقت کے لئے دو ہی نشان ہیں اور یہ صداقت کے دونوں نشان کسی کے لئے جب سے دنیا بنی ہے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔رمضان میں چاند گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات چاند کو اور سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ یہ گرہن 1894ء میں لگا اور 13-14-15 تاریخوں میں سے 13 تاریخ کو رمضان کے مہینے میں چاند کو گرہن لگا۔27-28-29 تاریخوں میں سے 28 تاریخ کو رمضان میں سورج کو گرہن لگا۔یہ آپ کی صداقت کی بڑی واضح دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے علاوہ اس وقت دعویٰ بھی کسی کا نہیں تھا۔بعض مولوی ، قمر وغیرہ کی بحث میں پڑتے ہیں تو قمر تو بعض کے نزدیک دوسری رات کے بعد کا چاند اور بعض کے نزدیک تیسری رات کے بعد کا چاند کہلا تا ہے۔اب کوئی دکھائے کہ کیا تائید کے اس نشان سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ کوئی دعوئی موجود تھا۔اگر دعوئی ہے تو صرف ایک شخص کا ہے جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اسے ہیں۔حضرت مسیح موعود اللہ نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ بے شمار علامتیں 39