اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 35

فارس۔اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پر کرنا لہذا یہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ میں ہوں“۔(تحفہ گولڑویه روحانی خزائن جلد 17۔صفحہ 114-115) مسیح اور مہدی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔مسیح موعود د ینی لڑائیوں کو موقوف کر دے گا پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید وضاحت فرمائی۔فرمایا کہ: حديث لَا مَهْدِى إِلَّا عِيسى جو ابن ماجہ کی کتاب میں جو اسی نام سے مشہور ہے اور حاکم کی کتاب مستدرک میں انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے اور یہ روایت محمد بن خالد الجندی نے ابان بن صالح سے اور ابان بن صالح نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کی ہے اور اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس شخص کے جو عیسی کی خو اور طبیعت اور طریق پر آئے گا اور کوئی بھی مہدی نہیں آئے گا۔یعنی وہی مسیح موعود ہوگا اور وہی مہدی ہو گا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی خو اور طبیعت اور طریق تعلیم پر آئے گا۔یعنی بدی کا مقابلہ نہ کرے گا اور نہ لڑے گا۔اور پاک نمونہ اور آسمانی نشانوں سے ہدایت کو پھیلائے گا۔اور اسی حدیث کی تائید میں وہ حدیث ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں لکھی ہے جس کے لفظ یہ ہیں کہ يَضَعُ الْحَرْبَ یعنی وہ مہدی جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے دینی لڑائیوں کو قطعاً موقوف کر دے گا۔اور اس کی یہ ہدایت ہوگی کہ دین کے لئے لڑائی مت کرو بلکہ دین کو بذریعہ سچائی کے نوروں اور اخلاقی معجزات اور خدا کے قرب کے نشانوں سے پھیلاؤ۔سومیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص اس وقت دین کے لئے لڑائی کرتا ہے یا کسی لڑنے والے کی تائید کرتا ہے یا ظاہر یا پوشیدہ طور پر 35