اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 34

مسیح موعود نے امت مسلمہ میں سے ہی آنا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کا غلط اور ظاہری مطلب لینے کی وجہ سے مسلمان ابھی تک مسیح کا انتظار کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اترے گا۔اس کو مزید کھولتے ہوئے کہ ان کا یہ مطلب غلط ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حدیث ہی سے وضاحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والے مسیح جس کا اس امت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی امت میں سے ایک شخص ہو گا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور اَمَّكُمْ مِنْكُمْ لکھا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسی کی نسبت ہے اور اسی کی تعریف میں اس حدیث میں حکم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ منظم کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے۔اور وہی مخاطب تھے لیکن ظاہر ہے کہ ان میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا اس لئے منگم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائمقام صحابہ ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ صحابہ کا قائمقام ہے۔ان کی جگہ پر ہے۔” اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائمقام صحابہ کیا گیا ہے۔یعنی یہ کہ ﴿وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ۔کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کریم کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے۔اور اسی معنی کی رو سے صحابہ میں داخل ہے اور اس آیت کی تشریح میں حدیث ہے لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ ا۔سورة الجمعة: ايت 4 34