اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 11
وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول کو کاذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہاویہ میں گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بد زبانی نہ چھوڑے۔یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کر دینا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے با کی اور شوخی اور بد زبانی مستوجب سزا ٹھہرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب میں نے یہ کہا تو اس کا رنگ فق ہو گیا، چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کانپنے لگے تب اس نے بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو مع سر کے ہلانا شروع کیا جیسا ایک ملزم خائف ایک الزام کا سخت انکار کر کے تو بہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار کہتا تھا کہ تو بہ تو بہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور پھر بعد میں بھی اسلام کے خلاف کبھی نہیں بولا۔تو یہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھنے والے شیر خدا کا رد عمل۔وہ للکارتے تھے ایسی حرکتیں کرنے والوں کو۔پھر ایک شخص لیکھر ام تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا تھا۔اس کی اس دریدہ دہنی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو باز رکھنے کی کوشش کی۔وہ باز نہ آیا۔آخر آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دردناک موت کی خبر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک دشمن اللہ اور رسول کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے اور ناپاک کلے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھر ام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعاسنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ 6 سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔یہ 11