اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 10
نکلے اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں تا کہ وہ لوگ جو احمد یوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہڑتالیں نہ کر کے اور ان میں شامل نہ ہو کر ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہمیں آنحضرت علی کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی دردنہیں ہے، ان پر جماعت کے کارنامے واضح ہو جائیں۔ہمارا رد عمل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اسوہ نکھر کر سامنے آئے۔قرآن کریم کی تعلیم نکھر کر سامنے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر نا پاک حملے دیکھ کر بجائے تخریبی کاروائیاں کرنے کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگنے والے ہم بنتے ہیں۔اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عشق رسول کی غیرت پر دو مثالیں دیتا ہوں۔پہلی مثال عبد اللہ آتھم کی ہے جو عیسائی تھا۔اس نے اپنی کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے انتہائی غلیظ ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دجال کا لفظ نعوذ باللہ استعمال کیا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسلام اور عیسائیت کے بارے میں ایک مباحثہ بھی چل رہا تھا، ایک بحث ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا، بحث چلتی رہی اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔یعنی جو الفاظ اس نے کہے ہیں اس کی پکڑ کے لئے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جب بحث ختم ہوئی تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بحث تو ختم ہوگئی مگر ایک رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب ”اندرونہ بائیبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کے نام سے پکارا ہے۔اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا جانتا ہوں اور دین اسلام کو من جانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا۔اور 10