اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 101

آپ صلی اللہ دعوی نبوت سے پہلے بھی آزادی ضمیر اور آزادی مذہب اور زندگی کی آزادی پسند فرماتے تھے اور غلامی کو ناپسند فرماتے تھے۔چنانچہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شادی کے بعد اپنا مال اور غلام آپ کو دے دیئے تو آپ نے حضرت خدیجہ کو فرمایا کہ اگر یہ سب چیزیں مجھے دے رہی ہو تو پھر یہ میرے تصرف میں ہوں گے اور جوئیں چاہوں گا کروں گا۔انہوں نے عرض کی اسی لئے میں دے رہی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں غلاموں کو بھی آزاد کر دوں گا۔انہوں نے عرض کی آپ جو چاہیں کریں میں نے آپ کو دے دیا، میرا اب کوئی تصرف نہیں ہے، یہ مال آپ کا ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلاموں کو بلایا اور فرمایا کہ تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ بھی غرباء میں تقسیم کر دیا۔جو غلام آپ نے آزاد کئے ان میں ایک غلام زید نامی بھی تھے وہ دوسرے غلاموں سے لگتا ہے زیادہ ہوشیار تھے، ذہین تھے۔انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ یہ جو مجھے آزادی ملی ہے یہ آزادی تو اب مل گئی ، غلامی کی جو مہرلگی ہوئی ہے وہ اب ختم ہو گئی لیکن میری بہتری اسی میں ہے کہ میں آپ عیب اللہ کی غلامی میں ہی ہمیشہ رہوں۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ نے مجھے آزاد کر دیا ہے لیکن میں آزاد نہیں ہوتا ہمیں تو آپ کے ساتھ ہی غلام بن کے رہوں گا۔چنانچہ آپ آنحضور عبید اللہ کے پاس ہی رہے اور یہ دونوں طرف سے محبت کا، پیار کا تعلق بڑھتا چلا گیا۔زید ایک مالدار خاندان کے آدمی تھے ، اچھے کھاتے پیتے گھر کے آدمی تھے، ڈاکوؤں نے ان کو اغوا کر لیا تھا اور پھر ان کو بیچتے رہے اور بکتے بکاتے وہ یہاں تک پہنچے تھے تو ان کے جو والدین تھے رشتہ دار عزیز بھی تلاش میں تھے۔آخر ان کو پتہ لگا کہ یہ لڑ کا مکہ میں ہے تو مکہ آگئے اور پھر جب پتہ لگا کہ آنحضرت علی اللہ کے پاس ہیں تو آپ کی مجلس عليه وسلم میں پہنچے اور وہاں جا کے عرض کی کہ آپ جتنا مال چاہیں ہم سے لے لیں اور ہمارے بیٹے کو 101