اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 100

کرتے ہی انہوں نے اپنے آپ کو آپ عیبی یا اللہ کی غلامی میں جکڑے جانے کیلئے پیش کر دیا کہ اسی غلامی میں میری دین و دنیا کی بھلائی ہے۔پھر ایک یہودی غلام کو مجبور نہیں کیا کہ تم غلام ہو میرے قابو میں ہو اس لئے جو میں کہتا ہوں کرو، یہاں تک کہ اس کی ایسی بیماری کی حالت ہوئی جب دیکھا کہ اس کی حالت خطرہ میں ہے تو اس کے انجام بخیر کی فکر ہوئی۔یہ فکر تھی کہ وہ اس حالت میں دنیا سے نہ جائے جبکہ خدا کی آخری شریعت کی تصدیق نہ کر رہا ہو بلکہ ایسی حالت میں جائے جب تصدیق کر رہا ہو۔تا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش کے سامان ہوں۔تب عیادت کے لئے گئے اور اسے بڑے پیار سے کہا کہ اسلام قبول کر لے۔چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول کریم عیب اللہ کا ایک خادم یہودی لڑکا تھا جو بیمار ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اسکے سرہانے تشریف فرما ہوئے اور فرمایا تو اسلام قبول کر لے۔ایک اور روایت میں ہے اس نے اپنے بڑوں کی طرف دیکھا لیکن بہر حال اس نے اجازت ملنے پر یا خود ہی خیال آنے پر اسلام قبول کرلیا۔(صحيح بخاري كتاب الجنائز باب: اذا اسلم الصبي فمات۔حدیث نمبر 1356) تو یہ جو اسلام اس نے قبول کیا یہ یقیناً اس پیار کے سلوک اور آزادی کا اثر تھا جو اس لڑکے پر آپ کی غلامی کی وجہ سے تھا کہ یقیناً یہ سچا مذہب ہے اس لئے اس کو قبول کرنے میں بچت ہے۔کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ یہ سرا پا شفقت و رحمت میری برائی کا سوچے۔آپ یقیناً برحق ہیں اور ہمیشہ دوسرے کو بہترین بات ہی کی طرف بلاتے ہیں ، بہترین کام کی طرف ہی بلاتے ہیں، اسی کی تلقین کرتے ہیں۔پس یہ آزادی ہے جو آپ نے قائم کی۔دنیا میں کبھی اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔100