اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 95
ہے یا یہ جگہ آپ نے خود پسند کی ہے؟ آپ کا خیال ہے کہ فوجی تدبیر کے طور پر یہ جگہ اچھی ہے؟ تو آنحضرت علی اللہ نے فرمایا کہ یہ تو محض جنگی حکمت عملی کے باعث میرا خیال تھا کہ یہ جگہ بہتر ہے، اونچی جگہ ہے تو انہوں نے عرض کی کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔آپ لوگوں کو لے کر چلیں اور پانی کے چشمہ پر قبضہ کر لیں۔وہاں ایک حوض بنالیں گے اور پھر جنگ کریں گے۔اس صورت میں ہم تو پانی پی سکیں گے لیکن دشمن کو پانی پینے کے لئے نہیں ملے گا۔تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے چلو تمہاری رائے مان لیتے ہیں۔چنانچہ صحابہ چل پڑے اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔تھوڑی دیر کے بعد قریش کے چند لوگ پانی پینے اس حوض پر آئے تو صحابہ نے روکنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا: نہیں ان کو پانی لے لینے دو۔(السيرة النبوية لابن هشام جلد نمبر 2۔صفحه 284۔غزوة بدر الكبرى۔مشورة الحباب على الرسول عليه الله) اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ حسن اخلاق اور اسلام میں آزادی ضمیر و مذہب کی تعلیم سے پھیلا ہے تو یہ ہے اعلیٰ معیار آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے کچھ عرصہ پہلے مسلمانوں کے بچوں تک کا دانہ پانی بند کیا ہوا تھا۔لیکن آپ نے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو جو پانی کے تالاب، چشمے تک پانی لینے کے لئے آئے تھے اور جس پر آپ کا تصرف تھا، آپ کے قبضے میں تھا، انہیں پانی لینے سے نہ روکا۔کیونکہ یہ اخلاقی ضابطوں سے گری ہوئی حرکت تھی۔اسلام پر سب سے بڑا اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔یہ لوگ جو پانی لینے آئے تھے ان سے زبر دستی بھی کی جا سکتی تھی کہ پانی لینا ہے تو ہماری شرطیں مان لینا۔کفار کئی جنگوں میں اس طرح کرتے رہے 95