اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 94

شعب ابی طالب کا واقعہ ہے۔آپ کو، آپ کے خاندان کو ، آپ کے ماننے والوں کو کئی سال تک محصور کر دیا گیا۔کھانے کو کچھ نہیں تھا، پینے کو کچھ نہیں تھا۔بچے بھی بھوک پیاس سے بلک رہے تھے، کسی صحابی کو ان حالات میں اندھیرے میں زمین پر پڑی ہوئی کوئی نرم چیز پاؤں میں محسوس ہوئی تو اسی کو اٹھا کر منہ میں ڈال لیا کہ شاید کوئی کھانے کی چیز ہو۔یہ حالت تھی بھوک کی اضطراری کیفیت۔تو یہ حالات تھے۔آخر جب ان حالات سے مجبور ہوکر ہجرت کرنی پڑی اور ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا اور حملہ آور ہوئے۔مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کو آپ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔ان حالات میں جن کا میں نے مختصر اذکر کیا ہے اگر جنگ کی صورت پیدا ہو اور مظلوم کو بھی جواب دینے کا موقع ملے ، بدلہ لینے کا موقع ملے تو وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ پھر اس ظلم کا بدلہ بھی ظلم سے لیا جائے۔کہتے ہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔لیکن ہمارے نبی علية و اللہ نے اس حالت میں بھی نرم دلی اور رحمت کے اعلیٰ معیار قائم فرمائے۔مکہ سے آئے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گذرا تھا تمام تکلیفوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔آپ کو اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کا احساس اپنی تکلیفوں سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔لیکن پھر بھی اسلامی تعلیم اور اصول وضوابط کو آپ نے نہیں تو ڑا۔جو اخلاقی معیار آپ کی فطرت کا حصہ تھے اور جو تعلیم کا حصہ تھے ان کو نہیں تو ڑا۔آج دیکھ لیں بعض مغربی ممالک جن سے جنگیں لڑ رہے ہیں ان سے کیا کچھ نہیں کرتے۔لیکن اس کے مقابلہ میں آپ کا اسوہ دیکھیں جس کا تاریخ میں ، ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔جنگ بدر کے موقع پر جس جگہ اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہیں تھی۔اس پر حباب بن منذر نے آپ صلی اللہ سے دریافت کیا کہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ منتخب کی ہے آیا یہ کسی خدائی الہام کے ماتحت ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا 94